Showing posts with label مہناز صابر. Show all posts
Showing posts with label مہناز صابر. Show all posts

Wednesday, 31 August 2016

مہناز صابر- پروفائل حسام الدین میرانی Mehnaz Sabir


Mehnaz Sabir 

M.A Previous 

Roll No 36



  ایکٹر، رائٹر اور ڈائریکٹر  حسام الدین میرانی 

پروفائل
مہناز صابر

کہتے ہیں کہ فن کسی کی میراث نہیں ایسا ہی حسام الدین میرانی کے ساتھ ہوا آپ کے والد ٹیچر تھے وہ چاہتے تھے کہ حسام بھی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینئر وغیرہ بنیں لیکن حسام میں تو فنکار چھپا ہوا تھا اور ایک نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف فنکارانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا بچپن ہی سے انہیں ڈرائنگ کا بہت شوق تھا 
اور جب بڑے ہوئے تو ایکٹر ،رائٹر اور ڈائریکٹر ،کی خصوصیات بھی ابھر کر سامنے آئیں ۔

حسام الدین میرانی تعلقہ پنو عاقل کے ایک گاؤں چندن میانی میں 4جولائی 1986میں پیدا ہوئے بہن بھائیوں میں آپ ساتویں نمبر پر ہیں آپ کے والد سکندر علی میرانی اپنے علاقے میں استاد ساجن کے نام سے مشہور تھے چونکہ وہ ادیب اور شاعر تھے اس لئے ساجن اس کا تخلص تھا پیشے کے اعتبار سے پرائمری ٹیچر تھے آپ نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے لئے 1990کی دھائی میں چوتھی اور پانچویں کلاس کے لئے جعغرافیہ کی ایک کتاب لکھی تھی اسکے علاوہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں آپ کے لکھے ہوئے اسباق بھی شامل ہیں ۔

حسام الدین میرانی کو پڑھنے لکھنے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن انہیں ڈرائنگ کا پچپن ہی سے جنون کی حد تک شوق تھا اس فیلڈ میں آپ کسی سے متاثر ہوکر نہیں آئے بلکہ یہ ایک قدرتی لگن تھی جو آج انہیں اس مقام تک لے آئی اور انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں میں اپنا لوہا منوا لیا ۔

حسام کے بڑے بھائی اور بہن پڑھائی میں انتہائی ذہین تھے اور ان کا اپنی کلاس کے نمایا ں طالب علموں میں شمار ہوتا تھا چونکہ ان کے والد ٹیچر تھے اس لئے ان کی خواہش تھی کہ حسام بھی اپنے بھائیوں کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنیں لیکن جب انہوں نہ یہ دیکھا کہ حسام کی توجہ صرف اور صرف ڈرائنگ کی طرف ہے تو انہوں نے حسام کو پرائیوٹ اسکول سے نکلواکر گورنمنٹ اسکول میں داخل کر وادیا باقی سارے بھائی بہن پرائیوٹ اسکو ل میں پڑھے اور صرف حسام گورنمنٹ اسکول میں ۔ لیکن حسام اس بات دل برداشتہ نہیں ہوئے اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرتے رہے ۔ 


پرائمری تعلیم آپ نے گاؤں میں حاصل کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ آپ نے گورنمنٹ اسکول و کالج پنو عاقل سٹی سے کیا انٹر کے بعد آپ نے کوشش کی کہ والدین کی خواہش پوری کریں کیونکہ آپ کے دو بڑے بھائی داکٹر بن رہے تھے ایک نیوی آفیسر ، ایک وکیل اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، سب ہی کسی نہ کسی اچھی فیلڈ میں تھے اس لئے آپ نے والد کی خواہش کے مطابق انجینئر بننے کے لئے قائد اعوام یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا لیکن آپ وہاں نہیں پڑھ سکے اور آپ نے فرسٹ سمسٹر میں ہی یونیورسٹی چھوڑ دی پھر آپ نے سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں داخلہ لیا وہاں سے آپ نے بیچلر کی ڈگری سیکنڈ ڈیژن میں حاصل کی ماسٹر کی ڈگری فاؤنڈیشن یونیورسٹی آف اسلام آباد سے حاصل کی جس میں آپ نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور آپ کو سلور میڈل سے نوازا گیا اور اس طرح اس فیلڈ میں آپ نے اپنی قابلیت ثابت کر دی ۔

یونین پولیٹکس کا بھی شوق رہا یونیورسٹی ٹائم میں تین سال تک یونین کے صدر رہے اور اب سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسو سی ایشن کا حصہ بھی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے پہلی جاب سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں بطور اسٹنٹ ٹیچر چھ ماہ تک کی پھر ڈیڑھ سال تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اس کے بعد پاکستان انسٹیٹوٹ آف فیشن ڈیزائن لاہور میں دو سال لیکچرار رہے اور اب گذشتہ تین سال سے سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے فرائض سر
انجام دے رہے ہیں ۔ 

اس کے علاوہ آپ مختلف اداروں کے لئے بھی کام کرتے رہتے ہیں سندھ کلچر ٹوئریزم ڈپارٹمنٹ کے لئے ایڈورٹائزنگ اور ڈیزاننگ کی ۔(NGOs) کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں سندھ گریجویٹ ایسو سی ایشن پنو عاقل کا بھی ایونٹ منجمنٹ اور پبلیسٹی کا کام کرتے ہیں سگا کے نام سے پورے سندھ میں پروگرام کرتے ہیں روشن تارا کے نام سے سندھ بھر کے ہر شہر میں ایک ایک اسکول ہے۔ یونائٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام والے اپنا سارا کام ایسٹ لائن کمیونیکیشن کمپنی کو دیتے ہیں تو آپ ان کو لئے ڈیزائننگ کرتے ہیں اس کے علاوہ عقاب تھیٹر سوساٹی پنو قائل کے لئے تھیٹر کا کام کرتے ہیں اُس میں آپ ایکٹنگ کرتے ہیں اور رائٹر اور ڈائریکٹر کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں ۔
آپ کے دوست رمضان کا کہنا ہے کہ جب کام ہوتاہے تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دیتا کام ، کام اور بس کام ۔ اور وہ آپ کے پیشہ سے بھی مطمئن ہیں ان کا کہنا ہے کہ حسام اپنے پیشہ سے صحیح انصاف کریں گے دوسرے دوست عبدالمجید جوکہ آپ کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آپ کمپرومائز نہیں کرتے چاہے خود نقصان اٹھا لیں گے ان کے مطابق آپ بہت ملنسار ، کوآپریٹواور خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں ۔
حسام کی خواہش اور کوشش ہے کہ آرٹس اینڈ ڈیزائن کا پاکستان میں جو لیول ہے اس کو چینج کیا جاسکے ان کا کہنا ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ اپنی  
فنکارانہ صلاحیتوں سے آج وہ اس مقام پر ہیں کہ ان کے والدین کو بھی ان کو فخر ہے
Mehnaz Sabir  M.A Previous 
Roll No 36

Monday, 22 August 2016

مہناز صابر: عید معاشی سرگرمیوں کا محور

A bit deviation from outline. ur outline was: معاشی سرگرمیوں کا محور
عیدالاضحی: مذہبی تہوار ہی نہیں ، معاشی سرگرمیوں کا محور بھی
Mehnaz Sabir
نام: مہناز صابر
رول نمبر: 2K16/MC/36 MA prev
کٹیگری : فیچر

مسلم معاشرے میں عیدالاضحی کو ایک خاص حیثیت اور مقام حاصل ہے ۔ عیدالفطر کے بعد یہ دوسرا بڑااسلامی تہوار ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں دنیا بھر کے مسلمان عیدالاضحی کے دنوں میں قربانی کرتے ہیں ۔ قربانی کا گوشت رشتہ دا روں، دوست احباب ، پڑوسیوں کے علاوہ غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ، جو عیدالاضحی کو ایک مذہبی فریضے کی بجائے خوب ڈٹ کر کھانے کا موقع سمجھتے ہیں ۔ ایسے لوگ حکمِ الٰہی کے مطابق قربانی تو کرتے ہیں لیکن سارا گوشت اپنے ڈیپ فریزر میں ذخیرہ کرلیتے ہیں ۔
ٰ
ٰ عیدالاضحی پر قربانی کا جانور گھر میں آتے ہی بچوں کی عید ہوجاتی ہے بلکہ بہت سے بچے تو اپنی پسند کا جانور لاتے ہیں پھرا سکو خوب سجاتے ہیں ،گھماتے پھراتے ہیں اور اپنی قربانی کے جانورکے خوب نازنخرے اٹھاتے ہیں ۔ ایسے میں کوئی شرارتی گائے یا بکرا بچوں سے رسّی چھڑوا کر بھاگ جاتا ہے اور پھر سارے بچے اور بڑے اسکو پکڑنے کے لیے اسکے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں ۔وہ بھی بڑے مزے کا منظر ہوتا ہے ۔اور پھر آخرکار ہانپتے کانپتے وہ گائے یا بکرے کو پکڑنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں ۔

بالآخر عید کا دن آجاتا ہے اور لوگ سنّتِ ابراہیمی کی آدائیگی کرتے ہیں اور پھر دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ اور ہر گھر میں مزے مزے کے کھانے بنائے جاتے ہیں ۔ نوجوان طبقے اور بچوں کا رجحان بار بی کیو کی جانب ہوتا ہے اور بار بی کیو کر کے عید کا مزہ دوبالا کرتے ہیں ۔ اور کئی دن تک دعوتوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

عیدالاضحی ایک ایسی معاشی سرگرمی ہے جس کے اثرات معاشرے میں دور تک جاتے ہیں اسلام امراء اور صاحبِ ثروت افراد پر ایسے فرائض عائد کرتا ہے جنکے ادائیگی سے گردِش زر کے راستے کھلتے ہیں اور دولت امراء سے غریب افراد کی طرف منتقل ہوتی ہے ۔ اگر صرف پاکستان کے حوالے سے بھی دیکھا جائے توعیدالاضحی ٰ کے محض تین دنوں میں ہونے والی معاشی سرگرمیاں تقریباً چھ ماہ یا پورے سا ل پر محیط ہوتی ہیں اس کی ابتداء فارم ہاوسز یا دیہی علاقوں میں قربانی کی نیت سے پالے جانے والے جانوروں کی پرورش سے ہوتی ہے ۔ یہ سلسلہ تقریباً سارا سال جاری رہتا ہے

عیدالاضحی بعض صنعتوں ، خصوصاً چمڑے کی صنعت کو بھرپور منافع کمانے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ بقول چمڑے کے تاجروں کہ’’یہ ہمارا سیزن ہوتا ہے ۔ ہم سال بھر کی اپنی ضروریات کا تقریباً
25 فیصد خام مال اس تہوار کے موقعے پر حاصل کرتے ہیں ۔

چمڑے کی صنعت کے بعد زکر آتا ہے کراچی کی مویشی منڈی کا ، جو ہر سال سپر ہائی وے پر فوج کی نگرانی میں لگتی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی وسیع ترین مویشی منڈیوں میں ہوتا ہے ۔ اس کا ٹینڈر کروڑوں روپے میں ہوتا ہے ذیلی ٹھیکے اسکے علاوہ ہیں ۔ جن میں پارکنگ ، داخلہ فیس، پینے کا پانی ، چائے ، کھانے کے ہوٹل، چارے اور بھوسے کے اسٹالوں کے ٹھیکے قابلِ ذکر ہیں ۔ یہ منڈی تقریباً بیس سے پچیس دن تک لاکھوں افراد کی روزی کا ذریعہ بنی رہتی ہے ۔

جب بلدیاتی ادارے والوں سے پوچھا گیا کہ عیدالاضحی کے دنوں میں کام بہت ذیادہ ہوتا ہے آپکے کارکن کم پڑتے ہونگے تو انہوں نے بتایا کہ ’’ عیدالاضحی کے دنوں میں کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یومیہ اجرت پر سینٹری ورکرز بھرتی کرتے ہیں اور کوڑا اٹھانے والیگاڑیوں کی قلت کے باعث کرائے پر گاڑیاں حاصل کرتے ہیں ۔

اب ذرا ایک دوسرے پہلو کو دیکھیے!عید قرباں کا موقع الیکٹرونکس کے تاجروں کیلیے خوشی کا پیغام لیکر آتا ہے ۔ الیکٹرونکس مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ’ہم سارا سال میں اتنا نہیں کماتے، جتنا عیدالاضحی کی موقعے پر کما لیتے ہیں ۔ ان دنوں فریج اور ڈیپ فریزر ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوتے ہیں ۔

عیدالاضحی پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورے شہر کو کھانے کا بخار چڑھ گیا ہے ۔ بیکری اور ریستورانوں میں سالم رانیں بھننے یا ہنٹر بیف بنانے کاجو معاوضہ لیتے ہیں وہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اچھا بھلا انسان چکرا کر رہ جائے ۔ لیکن زبان کے چٹخارے پر یقین رکھنے والے کسی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ لہٰذا ان جگہوں پر وہ رش دیکھنے میں آتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔


عیدالاضحی ان بیچاروں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بن جاتی ہے جو کچرے کے ڈھیر سے کارآمد چیزیں چننے کا کام کرتے ہیں ۔ ایک طبقہ ان دنوں کوڑے کے ڈھیر پر پھینکے جانے والی آلائشوں سے چربی نکال کر بیچنے کا دھندا کرتا ہے خریدنے والے اس چربی سے گھی بنا کر بازارمیں فروخت کرتے ہیں جو سموسوں، نمکو اور پکوڑے تلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔،

Wednesday, 10 August 2016

یہ ہزاروں نو جوان کہاں سمائیں گے

Improved 
 Mehnaz Sabir MA Prev-Article

یہ ہزاروں نو جوان کہاں سمائیں گے ۔



مہناز صابر ایم اے پریوئس 
آرٹیکل 
یہ ہمارے نو جوانوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ دنیا کے سارے مضمو ن چھو ڑ کر ہر ایک ٹیلیوژن ، اخبار یا ریڈیو میں جا نا چاہتا ہے قریب قریب ہر یونیورسٹی نے یہ مضا مین پڑھا نے شروع کر دیے ہیں ایک زمانے میں انہیں جر نلز م یا صحا فت کہا جا تا تھا پھر میڈیا کہلا یا اور اب ما س کمیونیکیشن کہنے لگے ہیں حال یہ ہے کہ اکثر ادا روں میں اتنے لڑکے اور لڑکیاں داخل ہو گئے ہیں کہ کمروں میں جگہ نہیں رہی اب تو تعلیمی اداروں میں ٹیلی ویژن اسٹوڈیو بن گئے ہیں ۔ ریصیو اسٹیشن کھل گئے ہیں اپنے اخبار اور رسالے نکا ل رہے ہیں اور داخلہ لینے والے نو جوان سنہرے خوابوں میں کھو ئے ہوئے ہیں اور اس دن کے منتظر ہیں جب وہ جیتے جا گتے ٹیلی ویژن پر نمو دار ہوں گے یا کسی بڑے اخبار کی پیشانی پر ان کا نام چھپے گا اور کسی ریڈیو پر ان کی دھو م مچی ہوگی ۔
یہ سب کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ نو جوان اس پیشے سے دور رہیں اس میں کیا شک ہے کہ یہ بڑا ہی ایڈ وینچر کا کام ہے ، اس میا4161 ہر روز کے چیلنج کا سامنا کرنے کی اپنی ہی لذت ہے پھر یہ کہ اس میں دولت کو تو جانے ددیجیے لیکن شہرت اور بعض اوقا ت عزت کا جو مزا ہے وہ انجینئرنگ اور ڈاکٹری میں کہاں ؟
آج پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی ۔ ایک زما نہ تھا جب تمام ہو نہا ر اور ذہین نو جوان سائنس پڑھا کرتے تھے وہ آگے چل کر انجینئر یا ڈاکٹر بنا کر تے تھے نسبتاً کم ذہیناور ذرا تھو ڑے ہو نہا ر لڑکے لڑکیاںآرٹس کے مضا مین لیا کرتے تھے زندگی کے اگلے مر حلے میں وہ افسر یا ٹیچر بن جا تے تھے یاکوئی اور منا سب جاب حاصل کر لیتے تھے ۔
پھر اچا نک یہ ہوا کہ نقشہ ہی بدلگیا امریکیوں نے آکر بزنس ایڈمنسٹریشن نام کا نیا دوروازہ کھو ل دیا اس کے بعددیکھتے ہی دیکھتے آئی ٹی کا زما نہ آ گیا اور پھر سارے نو جوان کمپیوٹرکے پیچھے ۔ہر ایک کو کمپیوٹر سیکھنے کا جنو ن سوا ر تھا تمام کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر سکھا ئے جا نے لگے جگہ جگہکمپیوٹر سینٹر کھل گئے ۔ اور نو جوانوں کے ساتھ ساتھ جا ب والے حضرات بھی کمپیو ٹر سیکھنے لگے کیونکہ ہر ادارے میں کمپیوٹر سسٹم شروع کر دیا گیا تھا ۔
اب جو یہ میڈیا پر یلغا ر ہوئی ہے اور اس پر جو نئی نسل نے ہلہ بو لا ہے اس کا کیاہو گا آگے چل کر ۔ اتنے بہت سے اور لڑکے اور لڑکیاں کہاں سما ئیں گے ان کے خواب بکھر یں گے تو کیا ہو گا اس نسل پر جب ما یو سی ہلہ بولے گی تو کون انہیں تسلی دے گا؟
میڈیا کا پیشہ اییسے غضب کے سہا نے خواب دکھا تا ہے کہ ہر کوئی اس کے فر یب میں آکر اس کی طرف کھینچا چلا جا تا ہے ۔ اسی کشش کی وجہ سے ہما رے زیا دہ تر نو جواں ما سکمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ میں ایڈمیشن لیتے ہیں ۔اور چا ر سال تک سنہرے خوابوں میں کھو ئے رہتے ہیں کہ ڈگری حاصل کر نے کے بعد میڈیا میں بہت اچھی جا ب لگے گی ۔ اخبار اور ریڈیو کی طرف رجحا ن تھو ڑا کم ہے ۔ زیا دہ تر نو جوانوں کو ٹیلی وژن میں کام کرنے کا شو ق ہے ڈرا موں میں آنے کا، گلو کا ری کرنے کا ،نیوز اینکر بننے کا وغیرہ وغیرہ ہر ایککے الگ الگ خواب ہوتے ہیں سو چتے ہیں میڈیا میں بہت نو کریاں ہیں اتنے سارے چینلز ہیں کہیں نہ کہیں تو جا ب مل ہی جا ئے گی لیکن اس بات سے بے خبر ہیں کہ اتنا پڑھنے کے بعد ، ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی جا ب حاصل کر نا کتنا مشکل ہے بے شما ر چینلز ہونے کے با وجو د بھی صرف چند لڑکے اور لڑکیاں جا ب حاصل کر پا تے ہیں کیونکہ جب اتنے چینلزکا م کر رہے ہیں تو ظا ہر سی با ت ہے کہ ان کے پاس کا م کرنے والے بھی مو جو د ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے پاس ڈگری ہے یا نہیں ۔ لیکن کئی سالوں سے کام کرنے کی وجہ سے ان کے پاس تجر بہ ہو تا ہے ۔
ٹھیک ہے کہ میڈیاجسے ابلا غ عامہ کہا جا تا ہے لو گوں کو بڑا مقا م دیتا ہے وہ اہم ہو جا تے ہیں ان کی آؤ بھگت ہو تی ہے ان کی بات نہ صرف سنی جا تی ہے بلکہ ما نی بھی جا تی ہے ۔ با اثر لو گ انہیں کھڑے ہو کر سلام بھی کرتے ہیں مگر بہت کم جا نتے ہیں کہ کئی اداروں میں لوگوں کو کئی کئی ما ہ سے اجرت نہیں مل رہی ہے کہیں کہیں نو بت فا قوں تک پہنچ گئی ہے وہ دکھیار ے اس امید پر کام کئے جا رہے ہیں کہ ایک نہ ایک روز مل جا ئے گی اور وہ بد نصیب روز نہیں آتا ۔

----------------- 
Mehnaz Sabir MA Prev-Article
یہ ہزاروں نو جوان کہاں سمائیں گے ۔

مہناز صابر ایم اے پریویس
یہ ہمارے نو جوانوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ دنیا کے سارے مضمو ن چھو ڑ کر ہر ایک ٹیلیوژن ، اخبار یا ریڈیو میں جا نا چاہتا ہے قریب قریب ہر یونیورسٹی نے یہ مضا مین پڑھا نے شروع کر دیے ہیں ایک زمانے میں انہیں جر نلز م یا صحا فت کہا جا تا تھا پھر میڈیا کہلا یا اور اب ما س کمیونیکیشن کہنے لگے ہیں حال یہ ہے کہ اکثر ادا روں میں اتنے لڑکے اور لڑکیاں داخل ہو گئے ہیں کہ کمروں میں جگہ نہیں رہی اب تو تعلیمی اداروں میں ٹیلی ویژن اسٹوڈیو بن گئے ہیں ۔ ریصیو اسٹیشن کھل گئے ہیں اپنے اخبار اور رسالے نکا ل رہے ہیں اور داخلہ لینے والے نو جوان سنہرے خوابوں میں کھو ئے ہوئے ہیں اور اس دن کے منتظر ہیں جب وہ جیتے جا گتے ٹیلی ویژن پر نمو دار ہوں گے یا کسی بڑے اخبار کی پیشانی پر ان کا نام چھپے گا اور کسی ریڈیو پر ان کی دھو م مچی ہوگی ۔
یہ سب کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ نو جوان اس پیشے سے دور رہیں اس میں کیا شک ہے کہ یہ بڑا ہی ایڈ وینچر کا کام ہے ، اس میا4161 ہر روز کے چیلنج کا سامنا کرنے کی اپنی ہی لذت ہے پھر یہ کہ اس میں دولت کو تو جانے ددیجیے لیکن شہرت اور بعض اوقا ت عزت کا جو مزا ہے وہ انجینئرنگ اور ڈاکٹری میں کہاں ؟
آج پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی ۔ ایک زما نہ تھا جب تمام ہو نہا ر اور ذہین نو جوان سائنس پڑھا کرتے تھے وہ آگے چل کر انجینئر یا ڈاکٹر بنا کر تے تھے نسبتاً کم ذہیناور ذرا تھو ڑے ہو نہا ر لڑکے لڑکیاںآرٹس کے مضا مین لیا کرتے تھے زندگی کے اگلے مر حلے میں وہ افسر یا ٹیچر بن جا تے تھے یاکوئی اور منا سب جاب حاصل کر لیتے تھے ۔
پھر اچا نک یہ ہوا کہ نقشہ ہی بدلگیا امریکیوں نے آکر بزنس ایڈمنسٹریشن نام کا نیا دوروازہ کھو ل دیا اس کے بعددیکھتے ہی دیکھتے آئی ٹی کا زما نہ آ گیا اور پھر سارے نو جوان کمپیوٹرکے پیچھے ۔ہر ایک کو کمپیوٹر سیکھنے کا جنو ن سوا ر تھا تمام کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر سکھا ئے جا نے لگے جگہ جگہکمپیوٹر سینٹر کھل گئے ۔ اور نو جوانوں کے ساتھ ساتھ جا ب والے حضرات بھی کمپیو ٹر سیکھنے لگے کیونکہ ہر ادارے میں کمپیوٹر سسٹم شروع کر دیا گیا تھا ۔
اب جو یہ میڈیا پر یلغا ر ہوئی ہے اور اس پر جو نئی نسل نے ہلہ بو لا ہے اس کا کیاہو گا آگے چل کر ۔ اتنے بہت سے اور لڑکے اور لڑکیاں کہاں سما ئیں گے ان کے خواب بکھر یں گے تو کیا ہو گا اس نسل پر جب ما یو سی ہلہ بولے گی تو کون انہیں تسلی دے گا؟
میڈیا کا پیشہ اییسے غضب کے سہا نے خواب دکھا تا ہے کہ ہر کوئی اس کے فر یب میں آکر اس کی طرف کھینچا چلا جا تا ہے ۔ اسی کشش کی وجہ سے ہما رے زیا دہ تر نو جواں ما سکمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ میں ایڈمیشن لیتے ہیں ۔اور چا ر سال تک سنہرے خوابوں میں کھو ئے رہتے ہیں کہ ڈگری حاصل کر نے کے بعد میڈیا میں بہت اچھی جا ب لگے گی ۔ اخبار اور ریڈیو کی طرف رجحا ن تھو ڑا کم ہے ۔ زیا دہ تر نو جوانوں کو ٹیلی وژن میں کام کرنے کا شو ق ہے ڈرا موں میں آنے کا، گلو کا ری کرنے کا ،نیوز اینکر بننے کا وغیرہ وغیرہ ہر ایککے الگ الگ خواب ہوتے ہیں سو چتے ہیں میڈیا میں بہت نو کریاں ہیں اتنے سارے چینلز ہیں کہیں نہ کہیں تو جا ب مل ہی جا ئے گی لیکن اس بات سے بے خبر ہیں کہ اتنا پڑھنے کے بعد ، ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی جا ب حاصل کر نا کتنا مشکل ہے بے شما ر چینلز ہونے کے با وجو د بھی صرف چند لڑکے اور لڑکیاں جا ب حاصل کر پا تے ہیں کیونکہ جب اتنے چینلزکا م کر رہے ہیں تو ظا ہر سی با ت ہے کہ ان کے پاس کا م کرنے والے بھی مو جو د ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے پاس ڈگری ہے یا نہیں ۔ لیکن کئی سالوں سے کام کرنے کی وجہ سے ان کے پاس تجر بہ ہو تا ہے ۔
ٹھیک ہے کہ میڈیاجسے ابلا غ عامہ کہا جا تا ہے لو گوں کو بڑا مقا م دیتا ہے وہ اہم ہو جا تے ہیں ان کی آؤ بھگت ہو تی ہے ان کی بات نہ صرف سنی جا تی ہے بلکہ ما نی بھی جا تی ہے ۔ با اثر لو گ انہیں کھڑے ہو کر سلام بھی کرتے ہیں مگر بہت کم جا نتے ہیں کہ کئی اداروں میں لوگوں کو کئی کئی ما ہ سے اجرت نہیں مل رہی ہے کہیں کہیں نو بت فا قوں تک پہنچ گئی ہے وہ دکھیار ے اس امید پر کام کئے جا رہے ہیں کہ ایک نہ ایک روز مل جا ئے گی اور وہ بد نصیب روز نہیں آتا ۔

-------        -------             -----           -----        ------     ------
Plz correct these mistakes 
For profile, interview and feature pix is must.
In composing  u used ے instead of ی

Mehnaz Sabir MA Prev-Article
یہ ہزاروں نو جوان کہاں سمائیں گے ۔
 آرٹیکل
 مہناز صابر
ےہ ہمارے نو جوانوں کو کےا ہو گےا ہے ؟ دنےا کے سارے مضمو ن چھو ڑ کر ہر اےک ٹےلی وژن ، اخبار ےا رےڈےو مےں جا نا چاہتا ہے قرےب قرےب ہر ےو نےورسٹی نے ےہ مضا مےن پڑھا نے شروع کر دےئے ہےں اےک زمانے مےں انہےں  جر نلز م ےا صحا فت کہا جا تا تھا پھر مےڈےا کہلا ےا اور اب ما س کمےو نےکےشن کہنے لگے ہےں حال ےہ ہے کہ اکثر ادا روں مےں اتنے لڑکے اور لڑکےاں داخل ہو گئے ہےں کہ کمروں مےں جگہ نہےں رہی اب تو تعلےمی اداروں مےں ٹےلی وےژن اسٹوڈےو بن گئے ہےں ۔ رےڈےو اسٹےشن کھل گئے ہےں اپنے اخبار اور رسالے نکا ل رہے ہےں اور داخلہ لےنے والے نو جوان سنہرے خوابوں مےں کھو ئے ہوئے ہے اور اس دن کے منتظر ہےں جب وہ جےتے جا گتے ٹےلی و ےژن پر نمو دار ہوں گے ےا کسی بڑے اخبار کی پےشا نی پر ان کا نام چھپے گا اور کسی رےڈےو پر ان کی دھو م مچی ہوگی ۔
ےہ سب کہنے کا مقصد ےہ نہےں ہے کہ نو جوان اس پےشے سے دور رہےں اس مےں کےا شک ہے کہ ےہ بڑا ہی اےڈ وےنچر کا کام ہے ، اس مےں ہر روز کے چےلنج کا سامنا کرنے کی اپنی ہی لذت ہے پھر ےہ کہ اس مےں دولت کو تو جانے دےجئے لےکن شہرت اور بعض اوقا ت عزت کا جو مزا ہے وہ انجےنئر نگ اور ڈاکٹری مےں کہاں ؟
آج پےچھے کی طرف دےکھتے ہےں تو حےرت ہوتی ہے کہ دنےا کےا سے کےا ہو گئی ۔ اےک زما نہ تھا جب تمام ہو نہا ر اور ذہےن نو جوان سائنس پڑھا کرتے تھے وہ آگے چل کر انجےنئر ےا ڈاکٹر بنا کر تے تھے نسبتاً کم ذہےن اور ذرا  تھو ڑے ہو نہا ر لڑکے لڑکےا ں آرٹس کے مضا مےن لےا کرتے تھے زندگی کے اگلے مر حلے مےں وہ افسر ےا ٹےچر بن جا تے تھے ےا کوئی اور منا سب جاب حاصل کر لےتے تھے ۔
پھر اچا نک ےہ ہوا کہ نقشہ ہی بدل گےا امر ےکےوں نے آکر بزنس اےد منسٹرےشن نام کا نےا دوروازہ کھو ل دےا اس کے بعد دےکھتے ہی دےکھتے آئی ٹی کا زما نہ آگےا اور پھر سارے نو جوان کمپےو ٹر کے پےچھے ۔ہر اےک کو کمپےو ٹر سےکھنے کا  جنو ن سوا ر تھا تمام کالجو ں اور ےونےورسٹےوں مےں کمپےو ٹر سکھا ئے جا نے لگے جگہ جگہ کمپےو ٹر سےنٹر کھل گئے ۔ اور نو جوانوں کے ساتھ ساتھ جا ب والے حضرات بھی کمپےو ٹر سےکھنے لگے کےونکہ ہر ادارے مےں کمپےو ٹر سسٹم شروع کر دےا گےا تھا ۔
اب جو ےہ مےڈےا پر ےلغا ر ہوئی ہے اور اس پر جو نئی نسل نے ہلہ بو لا ہے اس کا کےا ہے گا آگے چل کر ۔ اتنے بہت سے اور لڑکے اور لڑکےاں کہاں سما ئےں گے ان کے خواب بکھر ےں گے تو کےا ہو گا اس نسل پر جب ما ےو سی ہلہ بولے گی تو کون انہےں تسلی دے گا؟
مےڈےا کا پےشہ اےسے غضب کے سہا نے خواب دکھا تا ہے کہ ہر کوئی اس کے فر ےب مےں آکر اس کی طرف کھےنچا چلا جا تا ہے ۔ اسی کشش کی وجہ سے ہما رے زےا دہ تر نو جواں ما س کمپےو نےکےشن ڈےپا رٹمنٹ مےں اےڈمےشن لےتے ہےں اور چا ر سال تک سنہرے خوابوں مےںکھو ئے رہتے ہےں کہ ڈگری حاصل کر نے کے بعد مےڈےا مےں بہت اچھی جا ب لگے گی ۔ اخبار اور رےڈےو کی طرف رجحا ن تھو ڑا کم ہے ۔ زےا دہ تر نو جوانوں کو ٹےلی وژن مےں کام کرنے کا شو ق ہے ڈرا موں مےں آنے کا، گلو کا ری کرنے کا ، نےو ز اےنکر بننے کا وغےرہ وغےرہ ہر اےک کے الگ الگ خواب ہوتے ہےںسو چتے ہےں مےڈےا مےں بہت نو کرےاں ہےں اتنے سارے چےنلز ہےں کہےں نہ کہےں تو جا ب مل ہی جا ئے گی لےکن اس بات سے بے خبر ہےں کہ اتنا پڑھنے کے بعد ، ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی جا ب حاصل کر نا کتنا مشکل ہے بے شما ر چےنلز ہونے کے با وجو د بھی صرف چند لڑکے اور لڑکےاں جا ب حاصل کر پا تے ہےں کےونکہ جب اتنے چےنلز کا م کر رہے ہےں تو ظا ہر سی با ت ہے کہ ان کے پاس کا م کرنے والے بھی مو جو د ہےں ۔ ےہ الگ بات ہے کہ ان کے پاس ڈگری ہے ےا نہےں ۔ لےکن کئی سالوں سے کام کرنے کی وجہ سے ان کے پاس تجر بہ ہو تا ہے ۔
ٹھےک ہے کہ مےڈےا جسے ابلا غ عامہ کہا جا تا ہے لو گوں کو بڑا مقا م دےتا ہے وہ اہم ہو جا تے ہےں ان کی آﺅ بھگت ہو تی ہے ان کی بات نہ صرف سنی جا تی ہےں بلکہ ما نی بھی جا تی ہے ۔ با اثر لو گ انہےں کھڑے ہو کر سلام بھی کرتے ہےں مگر بہت کم جا نتے ہےں کہ کئی اداروں مےں لوگوں کو کئی کئی ما ہ سے اجرت نہےں مل رہی ہے کہےں کہےں نو بت فا قوں تک پہنچ گئی ہے وہ دکھےا ر ے اس امےد پر کام کئے جا رہے ہےں کہ اےک نہ اےک روز مل جا ئے گی اور وہ بد نصےب روز نہےں آتا ۔