Showing posts with label profile. Show all posts
Showing posts with label profile. Show all posts

Wednesday, 31 August 2016

مہناز صابر- پروفائل حسام الدین میرانی Mehnaz Sabir


Mehnaz Sabir 

M.A Previous 

Roll No 36



  ایکٹر، رائٹر اور ڈائریکٹر  حسام الدین میرانی 

پروفائل
مہناز صابر

کہتے ہیں کہ فن کسی کی میراث نہیں ایسا ہی حسام الدین میرانی کے ساتھ ہوا آپ کے والد ٹیچر تھے وہ چاہتے تھے کہ حسام بھی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینئر وغیرہ بنیں لیکن حسام میں تو فنکار چھپا ہوا تھا اور ایک نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف فنکارانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا بچپن ہی سے انہیں ڈرائنگ کا بہت شوق تھا 
اور جب بڑے ہوئے تو ایکٹر ،رائٹر اور ڈائریکٹر ،کی خصوصیات بھی ابھر کر سامنے آئیں ۔

حسام الدین میرانی تعلقہ پنو عاقل کے ایک گاؤں چندن میانی میں 4جولائی 1986میں پیدا ہوئے بہن بھائیوں میں آپ ساتویں نمبر پر ہیں آپ کے والد سکندر علی میرانی اپنے علاقے میں استاد ساجن کے نام سے مشہور تھے چونکہ وہ ادیب اور شاعر تھے اس لئے ساجن اس کا تخلص تھا پیشے کے اعتبار سے پرائمری ٹیچر تھے آپ نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے لئے 1990کی دھائی میں چوتھی اور پانچویں کلاس کے لئے جعغرافیہ کی ایک کتاب لکھی تھی اسکے علاوہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں آپ کے لکھے ہوئے اسباق بھی شامل ہیں ۔

حسام الدین میرانی کو پڑھنے لکھنے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن انہیں ڈرائنگ کا پچپن ہی سے جنون کی حد تک شوق تھا اس فیلڈ میں آپ کسی سے متاثر ہوکر نہیں آئے بلکہ یہ ایک قدرتی لگن تھی جو آج انہیں اس مقام تک لے آئی اور انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں میں اپنا لوہا منوا لیا ۔

حسام کے بڑے بھائی اور بہن پڑھائی میں انتہائی ذہین تھے اور ان کا اپنی کلاس کے نمایا ں طالب علموں میں شمار ہوتا تھا چونکہ ان کے والد ٹیچر تھے اس لئے ان کی خواہش تھی کہ حسام بھی اپنے بھائیوں کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنیں لیکن جب انہوں نہ یہ دیکھا کہ حسام کی توجہ صرف اور صرف ڈرائنگ کی طرف ہے تو انہوں نے حسام کو پرائیوٹ اسکول سے نکلواکر گورنمنٹ اسکول میں داخل کر وادیا باقی سارے بھائی بہن پرائیوٹ اسکو ل میں پڑھے اور صرف حسام گورنمنٹ اسکول میں ۔ لیکن حسام اس بات دل برداشتہ نہیں ہوئے اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرتے رہے ۔ 


پرائمری تعلیم آپ نے گاؤں میں حاصل کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ آپ نے گورنمنٹ اسکول و کالج پنو عاقل سٹی سے کیا انٹر کے بعد آپ نے کوشش کی کہ والدین کی خواہش پوری کریں کیونکہ آپ کے دو بڑے بھائی داکٹر بن رہے تھے ایک نیوی آفیسر ، ایک وکیل اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، سب ہی کسی نہ کسی اچھی فیلڈ میں تھے اس لئے آپ نے والد کی خواہش کے مطابق انجینئر بننے کے لئے قائد اعوام یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا لیکن آپ وہاں نہیں پڑھ سکے اور آپ نے فرسٹ سمسٹر میں ہی یونیورسٹی چھوڑ دی پھر آپ نے سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں داخلہ لیا وہاں سے آپ نے بیچلر کی ڈگری سیکنڈ ڈیژن میں حاصل کی ماسٹر کی ڈگری فاؤنڈیشن یونیورسٹی آف اسلام آباد سے حاصل کی جس میں آپ نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور آپ کو سلور میڈل سے نوازا گیا اور اس طرح اس فیلڈ میں آپ نے اپنی قابلیت ثابت کر دی ۔

یونین پولیٹکس کا بھی شوق رہا یونیورسٹی ٹائم میں تین سال تک یونین کے صدر رہے اور اب سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسو سی ایشن کا حصہ بھی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے پہلی جاب سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں بطور اسٹنٹ ٹیچر چھ ماہ تک کی پھر ڈیڑھ سال تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اس کے بعد پاکستان انسٹیٹوٹ آف فیشن ڈیزائن لاہور میں دو سال لیکچرار رہے اور اب گذشتہ تین سال سے سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے فرائض سر
انجام دے رہے ہیں ۔ 

اس کے علاوہ آپ مختلف اداروں کے لئے بھی کام کرتے رہتے ہیں سندھ کلچر ٹوئریزم ڈپارٹمنٹ کے لئے ایڈورٹائزنگ اور ڈیزاننگ کی ۔(NGOs) کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں سندھ گریجویٹ ایسو سی ایشن پنو عاقل کا بھی ایونٹ منجمنٹ اور پبلیسٹی کا کام کرتے ہیں سگا کے نام سے پورے سندھ میں پروگرام کرتے ہیں روشن تارا کے نام سے سندھ بھر کے ہر شہر میں ایک ایک اسکول ہے۔ یونائٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام والے اپنا سارا کام ایسٹ لائن کمیونیکیشن کمپنی کو دیتے ہیں تو آپ ان کو لئے ڈیزائننگ کرتے ہیں اس کے علاوہ عقاب تھیٹر سوساٹی پنو قائل کے لئے تھیٹر کا کام کرتے ہیں اُس میں آپ ایکٹنگ کرتے ہیں اور رائٹر اور ڈائریکٹر کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں ۔
آپ کے دوست رمضان کا کہنا ہے کہ جب کام ہوتاہے تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دیتا کام ، کام اور بس کام ۔ اور وہ آپ کے پیشہ سے بھی مطمئن ہیں ان کا کہنا ہے کہ حسام اپنے پیشہ سے صحیح انصاف کریں گے دوسرے دوست عبدالمجید جوکہ آپ کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آپ کمپرومائز نہیں کرتے چاہے خود نقصان اٹھا لیں گے ان کے مطابق آپ بہت ملنسار ، کوآپریٹواور خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں ۔
حسام کی خواہش اور کوشش ہے کہ آرٹس اینڈ ڈیزائن کا پاکستان میں جو لیول ہے اس کو چینج کیا جاسکے ان کا کہنا ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ اپنی  
فنکارانہ صلاحیتوں سے آج وہ اس مقام پر ہیں کہ ان کے والدین کو بھی ان کو فخر ہے
Mehnaz Sabir  M.A Previous 
Roll No 36

Thursday, 25 August 2016

احسن شکیل - فقیر بشیر احمد لغاری ,پروفائل

pic??
فقیر بشیر احمد لغاری 
پروفائل 
تحریر : احسن شکیل  
فقیر بشیر احمد لغاری صدیوں پرانے گاؤں فقیر غلام علی سے تعلق رکھتے ہیں ، جو کہ ضلع میرپورخاص کے شہر ڈگری سے تقریباً 5کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ کے والد کا نام حاجی عبداللہ لغاری تھا ، آپ 1947 ؁ء میں اپنے آبائی گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے 1956میں حاصل کی ۔ اور سیکنڈری تعلیم 1961میں ڈگری سے حاصل کی۔ آپ نے بین القوامی تعلقات میں ماسٹر ز 1975میں کیا۔

آپ نے اپنے علمی اور ادبی ذوق اور لوگوں کی بھلائی کی تکمیل کیلئے ایک تاریخی لائبیریر ی قائم کی ، جس کا نام فقیر بشیر احمد پبلک لائبریری ہے۔ اس لائبریر ی کا افتتاح پیر صاحب پگارہ ( مرحوم) نے 1960میں کیا۔ یہ لائبریری کسی بھی لحاظ سے بڑے شہر وں کی لائبریریوں سے کم نہیں ہے۔ مشہور کتابیں اور قلمی نسخوں سے سجی ہوئی یہ لائبریری کسی ریسرچ سینٹر یا انسٹیٹوٹ کی طرح ترتیب دی ہوئی ہے۔ پچھلے 55سالوں سے قائم اور دنوں دن ترقی کرتی ہوئی اور اپنی منزلیں طے پاتی ہوئی اس گاؤں کی لائبریری علم ، ادب ، تاریخ ، سیاست، سماجیت ، مذہب پر مشتمل اور دوسری زبانوں پر مشتمل لاتعداد میگزین ، سفر نامے ، بروشر کا ذخیرہ رکھتی ہے۔ اس لائبیریری میں اردو، انگریزی، سندھی ، پنجابی ، عربی اور فارسی زبانوں پر مشتمل تقریباً 25ہزار کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اور 44جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا جیسی نایاب کتابیں جس کے محتاط اندازے کے متعلق دنیا میں صرف چار نسخے موجود ہیں، جن کی مالیت تقریباً 5کروڑ ڈالر ہے، جو کہ اس لائبریری کی زینت ہے۔ اس لائبریری میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی سریل ، مخدوم محمد ہاشم نٹوی کا لکھا ہوا قرآن پاک ، خلیفہ قاسم اور دوسرے بزرگوں اور درویشوں کی شاعری کے نایاب قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی ، عربی اور فارسی زبانوں کے چار سوسال پرانے قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔
اس لائبریری کی عمارت جو کہ ایک ریڈنگ ہال اور کتابوں کے کمرے پر مشتمل ہے ، یہ کسی بھی لحاظ سے اپنی مدد آپ کے تحت بنائی ہوئی اور ایک چھوٹے سے گاؤں کی لائبریری نہیں لگتی۔ اس لائبریری کا پیر صاحب پگارہ مرحوم ، میر علی احمد خان ٹالپر ، محمد خان جونیجو سابق وزیر اعظم ، معراج محمد خان، عمران خان، مخدوم سجاد حسین قریشی ، رسول بخش پلیجو اور کئی مشہور اسکالر اور اہم شخصیات سمیت فرانس اور برطانیہ کے کونسل جنرل اور ورلڈ بینک ناروے ڈائریکٹر جنرل وزٹ کرچکے ہیں۔

آپ کا کہنا ہے کہ اس لائبریری کوتاریخی لائبریری بنانا میرا دلی شوق اور زندگی کی خواہش تھی۔ اور آپ نے یہ لائبریری بجلی نہ ہونے والے زمانے میں بنائی۔ آپ نے دن رات ایک کرکے ان کتابوں کا ذخیرہ اکھٹاکیا تاکہ آنے والی نسلیں ان کتابوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ نے ساتھ ہی ساتھ اپنے گاؤں کو ایک مثالی گاؤں بھی بنایا ، اس گاؤں میں پرائمری اور مڈل بوائز اور گرلز اسکول ، ہاسپٹل ، پبلک لائبریری، پوسٹ آفس ، واٹر سپلائی ، پی ٹی سی ایل سروسز اور بجلی ، پکی سڑکیں اور مدرسہ و مسجد بھی موجود ہیں جو صرف آپ کی کاؤشوں کا نتیجہ ہے۔ آپ نے اپنے گاؤں میں کچھ چنے ہوئے لوگوں کو لے کر ایک تنظیم بنائی ، اور ایک باڈی بنا کر اس تنظیم کی سربراہی کررہے ہیں۔ اس تنظیم کا کام چانچ پڑتال کرنا ہے کہ ہاسپٹل میں ڈاکٹرز ہیں یا نہیں ، ادویات پوری ہیں یا نہیں ، اسکولوں میں ٹیچرز ہیں یا نہیں ، لوگوں کو صاف پانی مہیا ہورہا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس مغل ، سمہ ، ٹالیر اور دوسرے اداروں کے سکے ، تلواریں ، نیزے، ڈھالیں اور بہت سے نوادرات بھی موجود ہیں۔ جس کیلئے آپ ایک عجائب گھر کی تعمیر کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ نے علمی کاؤشوں کی بدولت بے شمار میڈلز اور تعریفی اسناد حاصل کئے ۔
اور عنقریب آپ کی لکھی ہوئی دو کتابیں تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے علم میں اضافہ کرنے کیلئے دستیاب ہوں گی۔

Wednesday, 24 August 2016

وسيم احمد پروفائيل, استاد جاويد احمد انڙ

Waseem Ahmed


استاد جاويد احمد انڙ



صدين کان سرهي سنڌ ڌرتي جي سيني تي هميشه اهڙا ڪئين مڻيادار ماڻهو جنم وٺندا رهيا آهن، جن پنهنجي خداداد صلاحيتن سان هن ڌرتيءَ جي ماڻهن جي خدمت کي پنهنجو فرض سمجهندي پنهنجي زندگي بامقصد نموني سان گذاري آهي. اهڙن ماڻهن کي تاريخ ڪڏهن به وساري نه سگهندي آهي، انهن جو ڪيل پورهيو سندن نالي کي هميشه زنده رکندو رهندو آيو آهي، پوءِ اهو پورهيو علمي هجي يا ادبي، سياسي هجي يا سماجي، تاريخي هجي يا ثقافتي. علم و ادب ۾ سنڌ ڌرتي هميشه شاهوڪار رهي آهي، هتان جي قلم ڌڻين هميشه پنهنجي قلمي پورهئي سان ڌرتي جي بقا جي جنگ ۾ پنهنجو حصو ڳنڍيو آهي، اهو سلسلو صدين کان هلندو اچي ۽ صدين تائين هلندو رهندو. اهڙي مثال جهڙي هڪ پڙهيل لکيل ۽ سماج لاءِ پنهنجون خدمتون پيش ڪندڙ شخصيت جي باري ۾ ٻڌايون ٿا. جنهن جو نالو استاد جاويد احمد انڙ آهي. سندس پيدائش 1968 ۾ شاهپور چاڪر جي هڪ ننڍڙي ڳوٺ عمر آباد ۾ ٿي.
  پنهنجي ٻالڪپڻ جي بابت جاويد انڙ  ٻڌائي ٿو ته ڳوٺ جي ڪلراٺين گلين ۾ کيڏندي، ڳوٺ جي پرائمري اسڪول جي ڀڳل بينچن تي شروعاتي تعليم پرائيندي گذاريو. ننڍپڻ جو وقت خودمختيار رياست جي خودمختيار حڪمران جيان هوندو آهي، جتي پنهنجي مرضيءَ سان بيباڪ جيون جون ڇڙواڳ گهڙيون  ڪنهن بيبها دولت جيان هونديون آهن. گهر جو مٽيءَ سان لتل آڳر جو چهرو چانديءَ جيان چمڪندو هو، صبح جي مهل پکين جون ٻوليون ۽ شام جي شفق رنگن ۾ لهندڙ سج جي منظر سان ڌنارن جا ڌڻ ۽ پکين جا واپس ويندڙ ولرن جا ڏيک عجيب سرور ڏيندا هئا. ويل وقت جا اهي ورق دل جي ڪتاب تي ورائي ڏسبا آهن ته دل باغ بهار ٿي پوندي آهي.
1985 ۾ مئٽرڪ شاهپور چاڪر جي هاءِ اسڪول مان پاس ڪئي، ان کان پوءِ يارهون ۽ ٻارهون مسلم ڪاليج حيدرآباد سال 1987 مان پاس ڪيو. 1989 ۾ گورنمينٽ ڊگري ڪاليج مان بي ايس سي پاس ڪئي. ساڳئي سال سنڌ گريجوئيٽس ايسوسيئيشن(سگا) جا رضاڪار ميمبر ٿيا. ۽ سال 1990 ۾ شاهپور چاڪر هاءِ اسڪول ۾ جي ايس ٽي طور ڀرتي ٿيا. سال 1994 مان سنڌ يونيورسٽي ڄامشورو مان ايم اي اڪانامڪس ڪئي، ۽ ساڳئي يونيورسٽي مان سال 1996 ۾ ايم ايس سي (ميٿاميٽڪس) جي ڊگري حاصل ڪئي. تنهن کان پوءِ سال 2004 ۾ ايس ايس طور گورنمينٽ بوائز هائر سيڪنڊري اسڪول شاهپور چاڪر ۾ اڄ تائين ڪم ڪري رهيا آهن. پاڻ پنهنجي ڊيوٽي جي وقت جا پابند اهن ۽ فارغ وقت ۾ سگا جي لاءِ ڪم ڪندا آهن. سال 2005 ۾ پاڻ سينٽرل ايڪزيڪيوٽو ڪميٽي(سي اي سي) سگا ميمبر ٿيا.
ان وقت سائين پنهنجي ڳوٺ عمر آباد ۾ ڪاري سائي جي چڪاس ۽ ان جي بچاءَ لاءِ ٽڪا لڳرائڻ لاءِ مفت ڪيمپ هڻائي. تنهن کانپوءِ پنهنجي شهر شاهپور چاڪر ۽ ان جي آس پاس جي سورنهن ڳوٺن مهوش ۽ جهانگير صديقي فائونڊيشن جي تعاون سان مفت علاج لاءِ ڪيمپون ۽ دوائون پڻ ڏنيون ويون. ان کان علاوه يوسي شاهپور چاڪر جي اسڪولن۾ 10 هزار ٻارن کي ڪاري سائي جي بچاء جا ٽڪا پڻ لڳرايا. سائين جن 2010 جي مها ٻوڏ دوران امداد لاءِ شاهپور چاڪر ۾ سگا جي طرفان ڪيمپ لڳرائي متاثر خاندانن لاءِ راشن ۽ ڪپڙا، دوائون گڏ ڪري سنڌ جي ان متاثر علائقن ڏانهن موڪليون.
ضلعي سانگھڙ ۾ 2011 جي خطرناڪ برسات کانپوءِ چوپائي مال ۾ وڌندڙ بيماري جنهن ۾ هزارين ڍور مري چڪا هئا ان جي علاج لاءِ سگا جي طرفان ڊاڪٽرن جي ٽيم جوڙي مختلف علائقن ۾ مال کي ويڪسين پڻ ڪرائي، جنهن جي اڳواڻي بـ سائين پاڻ ڪئي.
تعليم جي لحاظ کان سائين جاويد شاهپور چاڪر جي 75 اسڪولن جي سروي ڪرائي جنهن ۾ بند پيل اسڪول، زبون عمارتون، اسڪولن ۾ فرنيچر جي کوٽ استادن جي غير حاضري ۽ ٻيو ڪجھ سروي ۾ شامل هو، جنهن جي رپورٽ ٺاهي تعليم جي اعليٰ عملدارن ڏي روانيون ڪيون.
سال 2015 ۾  سائين شاهپور چاڪر لاءِ سگا پاران روشن تارا اسڪول پڻ منظور ڪرايو ۽ ساڳئي سال روشن تارا اسڪول لاءِ زمين پڻ ورتي جيڪا شاهپور چاڪر جي نيڪ مرد حاجي محمد عالم شر عطيي طور ڏني. ۽ ساڳئي سال روشن تارا  اسڪول شاهپورچاڪر جو ڪم شروع ٿيو جيڪو سال 2016 جي آخر تائين مڪمل ٿيندو. سال 2016 ۾ سائين جاويد انڙ سگا جي مرڪز جا سيڪٽريٽ ايجوڪيشن آهن سال سائين سگا جي اسڪولن لاءِ تعليمي بورڊ لاءِ مختلف گڏجاڻيون ڪري رهيا آهن. سائين هن بورڊ جي حوالي سان ٻڌايو تـ هن تعليمي بورڊ ۾ ڪو بـ روشن تارا اسڪولن جو ملازم نـ هوندو ۽ اهي سڀ مرڪز عهديدارن مان چونڊيا ويندا. جيئن تـ اسڪولن ۾ معياري تعليم ملي سگھي. سائين وڌيڪ ٻڌايو تـ روشن تارا سڪولن جو مقصد اهو آهي تـ سنڌ جي ٻارن کي سنڌي صحيح نموني اچي. آخر ۾ جاويد انڙ چيو تـ منهنجي خواهش آهي تـ پوري سنڌ پڙهيل لکيل هجي ۽ هتان جو هر فرد سکيو ستابو هجي ۽ اهو سڀ ڪجھ علم سان ئي ٿي سگھي ٿو.

  رپورٽر : وسيم احمد      
  ڪلاس : ايم.اي (پريوس)
رول نمبر : 68               
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media & Communication Studies
University of  Sindh

Monday, 22 August 2016

Hafiz Munir Ahmed Khan Profile by Munium Ali Khan

picture of personality is needed
A Profile by Munium Ali Khan
Class: M.A (Previous)
Roll # 2K16-MMC-43
Semester: 2nd
Dr. Hafiz Munir Ahmed Khan
When I was nearly 15 years old and was a school student, I first time saw a startlingly good-looking person, who was standing near a beautiful mosque, smiling, embracing and meeting other people outside the mosque. I did not know you was he, but I could feel a spiritual relationship with him. I am not talking about a person who has curved lines on his face, aged between 70 or 80; of course not, I am talking about a person who has achieved many successes in his life in his very young age which is a very rare thing for other people to get.
Today, I am proudly going to introduce you Dr. Hafiz Munir Ahmed Khan. He is the grandson of Late Hazrat Dr. Gulam Mustafa (RA) who was an authentic Islamic and spiritual scholar, linguistic, educationist and the former Head of Department of Urdu at Sindh University and a companion of Allama I. I. Qazi (Founder of Sindh University).
Dr. Hafiz Munir Ahmed khan hail from a noble and honorable family, he was born in Hyderabad, Sindh in 10th October 1972. He has a remarkable memory and ability to learn and understand things quickly since his childhood. By virtue of this he had been Hafiz –ul- Quran in his early childhood, after completing HSC he did his M.A in Islamic Culture in1992 and M.A in Arabic in 1995 from University of Sindh with 1st classes respectively and completed his Ph.D. in Islamic Culture subsequently in 1998.  He is not only a great scholar and researcher, but is also a valuable religious mentor and teacher, he is now a chairperson of Department of Comparative Religion and Islamic Culture at Sindh University and also the Head of an authentic Islamic educational institution named Al- Mustafa Trust situated near Abdullah Sports City, Hyderabad, Sindh. He is also a member of Senate and Academic Council of Sindh University.

He has served as a Lecturer in Department of Arabic at Sindh University. He has also been lecturer in miscellaneous institutions such as, Allama Iqbal Open University, Hyderabad Campus and Institute of Information and Technology at Sindh University. He has attended many international, national and local seminars and conferences as a notable guest.

He is an unparalleled younger replica of his grandfather. I has always noticed this thing that when he meets someone and shakes hands, he always smiles which makes feel happy others. He is also a great humanitarian and philanthropist, he likes to help needy people quietly, many poor and orphan children are being taught in his own educational institute. He has also written many books and research articles on Islam like ‘Majma-ul-Bahrain’, ‘the Religious Activities of Hazrat Mujaddid Alif Sani’ and so on.
In short, I admit to have been failed to find words which can define his great personality, I just would like to say that he is worthy of great tribute for his service to humanity and education, he is one of those people who do not show who they really are, but the reality is that they are the hidden ocean of knowledge, wisdom, dignity and fortitude, lighting deviated people to right path, having the determination to serve mankind till the last breath of life.

گل محمد بُخاري جو پروفائيل :صدام لاشاري

ur intro is same as Abdul ghaffar's profile. he sent his profile first so u must have to change  ur intro.
 Sadam Lashari   پروفائيل
           ڀلوڙ ليکڪ گل محمد بُخاري
تحرير:صدام لاشاري
ايم اي پريويس
رول نمبر 52     
چيو ويندو آهي تـ غريب انسانن جي مدد ۽ حوصلا افزائي اهو ڪندو آهي جنهن جي دل ۾ انسانيت ديرو ڄمائي ويٺي هوندي آهي. يا تـ اهو انسان خُد انهن مشڪلاتن جو سير ڪندي وڏي منزل تي پهچندو آهي سندن کي پوءِ ئي غريبي جي چڱي طرح سُڌ پوندي آهي، ڇوتـ انهن جو تعلق پهريان ڏينهن ۽ رات ان بي پرده غريبي سان هيو جنهن کي ڪنهن بـ امير جي مينهن لتاڙي پئي سگهي. باقي تـ غريبن جو قدر اميرن کان وڌيڪ ڪير ڄاڻيندو هوندو جو امير پنهنجي انا ۽ وڏائي جي ڇانوءَ جي ڇاپري ۾ غريبن سان هٿ ملائڻ بـ پنهنجي توهين سمجهندا آهن. شايد انهن کي ڪنهن تعليمي اداري ۾ اهو درس ناهي ڏنو ويو تـ جيڪو اميري جي چادر اوڍي هلي سگهي ٿو تـ ان کي غريبي جو لباس پائڻ ۾ وقت ئي نـ لڳندو شايد اها ئي وجهه آهي جو امير غريب سان ائين نفرت ڪري ٿو جيئن رُٺل محبوب پنهنجي عاشق سان.
انهن غريبن مان گل محمد بخاري بـ هڪ آهي جنهن 9 مارچ 1960ع ۾سنڌ جي ننڍڙي شهر شهدادڪوٽ ۾جنم ورتو.غريبي واري اُڪسائيندڙ ماحول گل مُحمد بُخاري کي ليکڪ ٿيڻ تي مجبور ڪري ڇڏيو.گل محمد بخاري پنهنجي تعليم ڪنهن اعليٰ اسڪول يا ڪنهن نجي ادارن ما نـ پرائي غريبي جي خيال ويتر دماغ کي تيز بڻائي ڇڏيو،ڪيترن ئي سندس غريبي جي آڙ ۾ تعليم حاصل نـ ڪرڻ  جي صلاح مصلحت ڏيندا رهيا، شايد انهن کي خبر ڪا نـ هئي تـ گل محمد بخاري جا حوصلا پهاڙن کان بـ اوچا آهن. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري پنهنجي تعليم پرائڻ کي اول ترجيح ڏني.
تعليم:
پرائمري تعليم گورنمينٽ مين اسڪول شهدادڪوٽ مان حاصل ڪيائين. سيڪنڊري تعليم گورنمينٽ هاءِ اسڪول مان حاصل ڪيائين.هائير سيڪنڊري تعليم گورنمينٽ بوائز ڊگري ڪاليج شهدادڪوٽ مان حاصل ڪيائين.ماسٽر ڪيترن ئي سبجيڪٽس ۾ ڪيائين جهڙوڪ،ايم اي اسلامڪ ڪلچر، ايم اي مسلم هسٽري،ايم اي پوليٽيڪل سائنس ۽ ايم اي سنڌي شاه عبدالطيف يونيورسٽي مان ڪيائين
هو هڪ ليکڪ،هڪ اعليٰ ۽ هڪ معتبر انسان بڻجي زماني کي حقيقتون سمجهائڻ ۾ رڌل رهيو.سندس جي هڪ تمام وڏي ڪوشش اها بـ هئي تـ هو  غريب ۽ امير ۾ پيل صدين کان اميري ۽ غريبي جي ديوار کي هميشه لاءِ ختم ڪري انهن کي هڪ ئي راه تي گامزن ڪري. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري شهدادڪوٽ جي ڊگري ڪاليج ۾ (هن ديس جا وارث غريب) هڪ پروگرام ڪوٺرايو جنهن جي صدارت نالي وارن ليکڪن ۽ اديبن ڪئي.ان پروگرام جو اثر غريبن تمام سٺي نموني سان اپنايو.گل محمد بخاري پهريون ڪتاب اوڻويهن سالن جي ڄمار ۾ لکيو.سندس مقصد اهو هو تـ قلم جي ذريعي ماڻهن ۾ اُتساهه پيدا ڪجي.گل محمد بخاري کي ڪتاب لکڻ تي تمام سٺي موٽ ملي ۽ سندس جا حوصلا پهاڙ جيئان بلند ٿي ويا. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري تيزي سان ڪيترائي ڪتاب لکيا جيڪي ماڻهون پڙهي لُطف اندوز ٿين ٿا.
ليکڪ گل محمد بخاري جا ڪيترائي ڪتاب مارڪيٽ جي رونق بڻيل آهن ننڍو توڙي وڏو معنيٰ تـ هر ماڻهون جنهن کي ڪتابن سان چاهه آهي اهو گل محمد بخاري جا ڪتاب پڙهي پنهنجي روح کي راحت بخشي ٿو. سندس جا ڪجهه لکيل ڪتاب هي آهن.
لکيل ڪتاب
ذڪرِ حبيب، عزيز نامو، پيار ڀريو پورهيو، رهبرِ ڪامل، طبِ نبوي، آبِ ڪوثر، سيدالمرسلين، بُرهان شريف، انسان نامو، شهدادڪوٽ ضلعو ڇو؟، شهدادڪوٽ جا قلمڪار ۽ شاعر، سبحان جي ساراهه، عرفان شريف، ديوانِ گل بخاري، فڪرِ حبيب، رهبرِ اعظم، تحريڪي ڪارڪنن جا پاڻ ۾ تعلقات، تاريخ جا ٻـ ورَق.
ليکڪ گل محمد بخاري جي هنن تحريرن ماڻهن جي دلن ۾ گهر ڪري ڇڏيو،ليکڪ گل محمد بخاري جي هر ننڍو توڙي وڏو دل جي گهرائي سان عزت ڪندي نظر ايندو آهي. سندس جي محنت رنڱ لاتو غريبي جي پاجامي ۾ رهي ڪري دلي طور تي اميري جهڙا ڪم ڪرڻ لڳو.گل محمد بخاري ڪڏهن بـ هڪ پل جي لاءِ بـ ڪنهن غريب کي غريبي جو احساس ناهي ڏياريو ويتر هو پاڻ کي غريبن جو يار سڏرائڻ  ۾ فخر محسوس ڪندو آهي.حڪومتِ پاڪستان جي طرفان گل محمد بخاري کي ايوارڊ پڻ ڏنو ويو آهي.
سندِ امتياز ايوارڊ:
ڪيترن ئي ڪتابن جي تحريرن کان بعد ۾ ليکڪ گل محمد بخاري جي طرفان لکيل بهترين ڪتاب بُهران شريف جي مارڪيٽ ۾ اچڻ کان بعد ۾ حڪومتِ پاڪستان جي طرفان گل محمد بخاري کي 5 فيبروري 2012ع ۾ سندِ امتياز ايوارڊ سان نوازيو ويو.

ليکڪ گل محمد بخاري اڄ بـ پنهنجي علم ۽ ادب سان ماڻهن جي ضميرن کي جاڳائڻ جي ڀرپور ڪوشش ۾ رڌل آهي. ان سان گڏوگڏ ڪيترن ئي غريب شاگردن کي پنهنجي علم جي روشني سان علم نوازي رهيو آهي. سندس جي ڪوشش اها آهي تـ هِن وانگر هِن جا شاگرد بـ علم ۽ ادب جي سُر کي سڃاڻي جهالت واري نظام خلاف بغاوت  ڪري سنڌ سميت پنهنجي هر ننڍي توڙي وڏي شهر ۾ تعليم جي معيار کي بهتر بڻائن.

محمد ايوب گاد جو پروفائي طارق علي چانڊيو

This is not profile, its CV
 محمد ايوب گاد ھدايتڪار ۽ شاعر مصور (پروفائيل(

ليکڪ طارق علي چانڊيو
ايم اي  پريويس
رول نمبر ؛ M.M.C/63

نالو؛ محمد ايوب گاد
 والد؛ گلام حيدر خان  گاد
ڄمڻ جي تاريخ   2/6/1960
ڄمڻ جو ھند لاڙڪاڻو شھر
تعليم؛   بي اي ( سائيڪالوجي)
          ايم. اي (سنڌي ادب)

ايوب گاد بنيادي طور تي فنون لطيف جو اهو سگهارو ۽ مانوارو نالو آهي جيڪو هڪ ئي وقت سٺو شاعر ، سادڙن رنگن مان زندگيءَ جي حقيقت کي پيش ڪندڙ مصور ، ڪميٽيڊ ۽ سڄاڻ ڊراما نگار ،اسٽيج ۽ ٽيليويزن ناٽڪن جو گهري نگاھ رکندڙ زھين ھدايتڪار آھي.
اسان جي هن ٽهي ءَ ۾ پاڪستان ٽيليويزن کان ٻاهر ايوب گاد اهو پهريون هدايتڪار آهي جيڪو اسڪرپٽنگ کان وٺي فاعينل ايڊيٽنگ تاعين جي سمورن مرحلن کان بخوبي واقف آهي ۽ اهو ئي سبب آهي جو سندس ڪم صاف سٿرو هوندو آھي.

ڇپيل ڪتاب
§        پيار جي ڇانوَ ۾ (شاعري) 1993/2000.
§        راحت العاشقين (نثر) 1998ع.
§        جنهن سان پسجي پرينءَ کي (نثر) 1998ع.
§        اک الٽي ڌار (ڀٽائي سائينءَ جي ڪجهه بيتن جي تشريح)
§        اسڪول ميگ (بطور ايڊيٽر)


ڪالم
§        جاڳو (ڪراچي)                   1998ع.
§        خادم وطن (حيدرآباد)    1998ع.
§        ڪوشش         (حيدرآباد)                 1999ع.
§        شام (حيدرآباد)            1999ع.
§        ماهوار مومل (ڪراچي)         1999ع.

مقالا ۽ مضمون
§        ماهورا نئين زندگي (حيدرآباد)  1996ع.
§        پندرهن روزه عبرت ميگزين (حيدرآباد)          1991ع.
§        ماهوار ڪونج (لاڙڪاڻو)                 1994ع.
§        سنڌو (حيدرآباد)                   1992ع.

ڇپيل ڪهاڻيون
§        نئين زندگي، رابيل ڊائجسٽ، هزار داستان، سنڌ، چانڊڪا، بختاور، عبرت مئگزين، پرهه، پارس، مومل، آجپو.

ڇپيل انٽريو
§        جنگ مئگزين (اردو)، انڊس مئگزين (انگلش)، عبرت مئگزين، ماهوار ناٽڪ ( ڪراچي)، اخبار فن ( اردو)، سنڌو، ڪونج، ساڻيهه مئگزين.

ڇپيل شاعري (گيت، غزل ۽ وايون ٽوٽل تعداد 99)
§        سهڻي، لطيف ڊائجسٽ، ن.ين زندگي، مهراڻ، سنڌ، سگهڙين سٿ، بختاور مئگزين، پارس، مومل، پروڙ، چانڊڪا، نئين سوچ، سنڌو ۽ ٻيا رسالا.

اسڪيچ
§        موهن جو دڙو مئگزين
§        چانڊڪا ميڊيڪل ڪاليج ڏياري مئگزين
§        رابيل ڊائجيسٽ
§        روزانه آفتاب اخبار

ڪتاب، رسالا ۽ ڊائجسٽن جا ٽائيٽل
§        پيار جي چانوَ ۾
§        پير ۾ پينگهه
§        گجر پائي گج
§        ڪنڌيءَ نسريا ڪانهن
§        بندر ديسان ديس ( سفرنامو)
§        نيڻ ڳالهائين ٿا
§        رابيل ڊائجسٽ
§        زندگي ۽ ڪئڪٽس (ڪهاڻيون)
§        ديش دروهي ( ڪهاڻي)
§        اُڀر چنڊ پس پرين ( ڪهاڻيون)
§        سائنس مئگزين
§        اسڪول مئگ
§        ماهوار سارس ڪراچي

تصويرن جي نمائش
§        پرس ڪلب لاڙڪاڻو، 1980ع
§        چانڊڪا ميڊيڪل ڪاليج لاڙڪاڻو، 1981ع
§        سنڌ آرٽسٽ گلڊ حيدرآباد، 1981ع
§        المنظر سئنيما، رائل سئنيما، ايمپائر سئنيما، قلو پطره سئنيما تي (1976 کان 1996 تائين) سوين بينر (فلمي اداڪارن جون تصويرون) ٺاهيل.

ڪنول پروڊيڪشن جي بنياد وجهي آڊيو جي رليز ڪيل البم (جنهن ۾ ڪا به ڪاپي ڌن نه هئي.)
1.     سوره النساءِ سنڌي ترجمي سان.
2.     ماءِ سانگس (شاعري) ايوب گاد، واليم _1 ۽ 2.
3.     استاد بخاري نمبر (شاعري) استاد بخاري.
4.     منهنجا گيت(شاعري) عبدالغفار تبسم.
5.     دوستيءَ جو سج ( شاعري) سميع بلوچ.
6.     اسين مسافر پيار جا ( شاعري) ادل سومرو.
7.     خواب رستا ( شاعري) اياز گل واليم _1 ۽ 2.
8.     آ لفاريو (شاعري) جواد جعفري.
9.     بيدل مسرور، صادق فقير، سرمد سنڌي، عاشق نظاماڻي، ايم گروپ، نظير سمون، رابعه غزل، نوحه.
ڊرامه
§        اسٽج (ون ايڪٽ مزاحيه 1988ع کان)
§        ڀلا ڙي ڀاڳ
§        هل پنهل
§        شادي بابي جي
§        ڪنوار قسطن جي
§        آزاد اميدوار
§        پهاج
§        نو پرابلم
§        نه بنگلو گهري ٿي نه ڪار گهري ٿي
§        هڻ لڻ هاسپيٽل
§        وائڙي ليلا واندو مجنون
§        خوابن جي ليليٰ.

ريڊيو پاڪستان لاءِ لکيل ڊرامه
§        ٻيڙائي پار _ پروڊيوسر علي مراد ٽانوري.

ويڊيو فلمون (ٽيلي فلم)
1.     بيوس؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (تجرباتي فلم) 1983ع.
2.     مهربان؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (پاڪستان جي پهرين ٽيلي فلم جيڪا رليز ڪئي وئي) 1985ع، رليز شاليمار رڪارڊنگ ڪمپني (SRC 451) اسلام آباد.
3.     مس 88؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (رليز نه ڪيل) 1988ع.
4.     ناسور؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، رليز ڪنگز وڊيو سکر، 1992ع.
5.     مقدر جي ميندي؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، رليز ڪنگز وڊيو سکر، 2004ع.

پاڪستان ٽيلي ويزن (PTV) لاءِ ليل ڊراما
     ڊرامي جو نالو                تحرير            هدايتون          سال
1. پرچاءُ                           ايوب گاد                  سميع بلوچ      1996
2. تنهنجي خوشيءَ خاطر        ايوب گاد                  بيدل مسرور    2000
3. مون ۾ تون موجود   ايوب گاد                  سميع بلوچ      2002
(13 قسطون سيريل)

پاڪستان ٽيليويزن تان هليل گانا
§        ڳائڻا؛ تعمير حسين، عاشق نظاماڻي، انيتا رياض، حميد راڄپر، سيما ناز ۽ ٻيا.
 STN  لاءِ لکيل  ڊراما
§        عيوضو؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، 2003ع.
پرائيويٽ ڪمپنين طرفان نڪتل آڊيو ڪيسيِن ۾ گانا


§        گائڻا؛ عاشق نظاماڻي، سما ناز، انيتا رياض، منظور سخيراڻي، سرمد سنڌي، غلام شبير سمون، عاشق نظاماڻي، رياض سومرو، شفيق منگي، اسلم تنيو، آڪاش سنڌي، ّالد پيرزادو، سڪندر، ايم گروپ ۽ ٻيا.