Showing posts with label پروفائل. Show all posts
Showing posts with label پروفائل. Show all posts

Wednesday, 31 August 2016

مہناز صابر- پروفائل حسام الدین میرانی Mehnaz Sabir


Mehnaz Sabir 

M.A Previous 

Roll No 36



  ایکٹر، رائٹر اور ڈائریکٹر  حسام الدین میرانی 

پروفائل
مہناز صابر

کہتے ہیں کہ فن کسی کی میراث نہیں ایسا ہی حسام الدین میرانی کے ساتھ ہوا آپ کے والد ٹیچر تھے وہ چاہتے تھے کہ حسام بھی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینئر وغیرہ بنیں لیکن حسام میں تو فنکار چھپا ہوا تھا اور ایک نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف فنکارانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا بچپن ہی سے انہیں ڈرائنگ کا بہت شوق تھا 
اور جب بڑے ہوئے تو ایکٹر ،رائٹر اور ڈائریکٹر ،کی خصوصیات بھی ابھر کر سامنے آئیں ۔

حسام الدین میرانی تعلقہ پنو عاقل کے ایک گاؤں چندن میانی میں 4جولائی 1986میں پیدا ہوئے بہن بھائیوں میں آپ ساتویں نمبر پر ہیں آپ کے والد سکندر علی میرانی اپنے علاقے میں استاد ساجن کے نام سے مشہور تھے چونکہ وہ ادیب اور شاعر تھے اس لئے ساجن اس کا تخلص تھا پیشے کے اعتبار سے پرائمری ٹیچر تھے آپ نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے لئے 1990کی دھائی میں چوتھی اور پانچویں کلاس کے لئے جعغرافیہ کی ایک کتاب لکھی تھی اسکے علاوہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں آپ کے لکھے ہوئے اسباق بھی شامل ہیں ۔

حسام الدین میرانی کو پڑھنے لکھنے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن انہیں ڈرائنگ کا پچپن ہی سے جنون کی حد تک شوق تھا اس فیلڈ میں آپ کسی سے متاثر ہوکر نہیں آئے بلکہ یہ ایک قدرتی لگن تھی جو آج انہیں اس مقام تک لے آئی اور انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں میں اپنا لوہا منوا لیا ۔

حسام کے بڑے بھائی اور بہن پڑھائی میں انتہائی ذہین تھے اور ان کا اپنی کلاس کے نمایا ں طالب علموں میں شمار ہوتا تھا چونکہ ان کے والد ٹیچر تھے اس لئے ان کی خواہش تھی کہ حسام بھی اپنے بھائیوں کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنیں لیکن جب انہوں نہ یہ دیکھا کہ حسام کی توجہ صرف اور صرف ڈرائنگ کی طرف ہے تو انہوں نے حسام کو پرائیوٹ اسکول سے نکلواکر گورنمنٹ اسکول میں داخل کر وادیا باقی سارے بھائی بہن پرائیوٹ اسکو ل میں پڑھے اور صرف حسام گورنمنٹ اسکول میں ۔ لیکن حسام اس بات دل برداشتہ نہیں ہوئے اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرتے رہے ۔ 


پرائمری تعلیم آپ نے گاؤں میں حاصل کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ آپ نے گورنمنٹ اسکول و کالج پنو عاقل سٹی سے کیا انٹر کے بعد آپ نے کوشش کی کہ والدین کی خواہش پوری کریں کیونکہ آپ کے دو بڑے بھائی داکٹر بن رہے تھے ایک نیوی آفیسر ، ایک وکیل اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، سب ہی کسی نہ کسی اچھی فیلڈ میں تھے اس لئے آپ نے والد کی خواہش کے مطابق انجینئر بننے کے لئے قائد اعوام یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا لیکن آپ وہاں نہیں پڑھ سکے اور آپ نے فرسٹ سمسٹر میں ہی یونیورسٹی چھوڑ دی پھر آپ نے سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں داخلہ لیا وہاں سے آپ نے بیچلر کی ڈگری سیکنڈ ڈیژن میں حاصل کی ماسٹر کی ڈگری فاؤنڈیشن یونیورسٹی آف اسلام آباد سے حاصل کی جس میں آپ نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور آپ کو سلور میڈل سے نوازا گیا اور اس طرح اس فیلڈ میں آپ نے اپنی قابلیت ثابت کر دی ۔

یونین پولیٹکس کا بھی شوق رہا یونیورسٹی ٹائم میں تین سال تک یونین کے صدر رہے اور اب سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسو سی ایشن کا حصہ بھی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے پہلی جاب سینٹر آف ایکسیلنس ان آرٹس اینڈ ڈیزائن میں بطور اسٹنٹ ٹیچر چھ ماہ تک کی پھر ڈیڑھ سال تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اس کے بعد پاکستان انسٹیٹوٹ آف فیشن ڈیزائن لاہور میں دو سال لیکچرار رہے اور اب گذشتہ تین سال سے سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے فرائض سر
انجام دے رہے ہیں ۔ 

اس کے علاوہ آپ مختلف اداروں کے لئے بھی کام کرتے رہتے ہیں سندھ کلچر ٹوئریزم ڈپارٹمنٹ کے لئے ایڈورٹائزنگ اور ڈیزاننگ کی ۔(NGOs) کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں سندھ گریجویٹ ایسو سی ایشن پنو عاقل کا بھی ایونٹ منجمنٹ اور پبلیسٹی کا کام کرتے ہیں سگا کے نام سے پورے سندھ میں پروگرام کرتے ہیں روشن تارا کے نام سے سندھ بھر کے ہر شہر میں ایک ایک اسکول ہے۔ یونائٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام والے اپنا سارا کام ایسٹ لائن کمیونیکیشن کمپنی کو دیتے ہیں تو آپ ان کو لئے ڈیزائننگ کرتے ہیں اس کے علاوہ عقاب تھیٹر سوساٹی پنو قائل کے لئے تھیٹر کا کام کرتے ہیں اُس میں آپ ایکٹنگ کرتے ہیں اور رائٹر اور ڈائریکٹر کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں ۔
آپ کے دوست رمضان کا کہنا ہے کہ جب کام ہوتاہے تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دیتا کام ، کام اور بس کام ۔ اور وہ آپ کے پیشہ سے بھی مطمئن ہیں ان کا کہنا ہے کہ حسام اپنے پیشہ سے صحیح انصاف کریں گے دوسرے دوست عبدالمجید جوکہ آپ کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آپ کمپرومائز نہیں کرتے چاہے خود نقصان اٹھا لیں گے ان کے مطابق آپ بہت ملنسار ، کوآپریٹواور خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں ۔
حسام کی خواہش اور کوشش ہے کہ آرٹس اینڈ ڈیزائن کا پاکستان میں جو لیول ہے اس کو چینج کیا جاسکے ان کا کہنا ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ اپنی  
فنکارانہ صلاحیتوں سے آج وہ اس مقام پر ہیں کہ ان کے والدین کو بھی ان کو فخر ہے
Mehnaz Sabir  M.A Previous 
Roll No 36

Thursday, 25 August 2016

احسن شکیل - فقیر بشیر احمد لغاری ,پروفائل

pic??
فقیر بشیر احمد لغاری 
پروفائل 
تحریر : احسن شکیل  
فقیر بشیر احمد لغاری صدیوں پرانے گاؤں فقیر غلام علی سے تعلق رکھتے ہیں ، جو کہ ضلع میرپورخاص کے شہر ڈگری سے تقریباً 5کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ کے والد کا نام حاجی عبداللہ لغاری تھا ، آپ 1947 ؁ء میں اپنے آبائی گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے 1956میں حاصل کی ۔ اور سیکنڈری تعلیم 1961میں ڈگری سے حاصل کی۔ آپ نے بین القوامی تعلقات میں ماسٹر ز 1975میں کیا۔

آپ نے اپنے علمی اور ادبی ذوق اور لوگوں کی بھلائی کی تکمیل کیلئے ایک تاریخی لائبیریر ی قائم کی ، جس کا نام فقیر بشیر احمد پبلک لائبریری ہے۔ اس لائبریر ی کا افتتاح پیر صاحب پگارہ ( مرحوم) نے 1960میں کیا۔ یہ لائبریری کسی بھی لحاظ سے بڑے شہر وں کی لائبریریوں سے کم نہیں ہے۔ مشہور کتابیں اور قلمی نسخوں سے سجی ہوئی یہ لائبریری کسی ریسرچ سینٹر یا انسٹیٹوٹ کی طرح ترتیب دی ہوئی ہے۔ پچھلے 55سالوں سے قائم اور دنوں دن ترقی کرتی ہوئی اور اپنی منزلیں طے پاتی ہوئی اس گاؤں کی لائبریری علم ، ادب ، تاریخ ، سیاست، سماجیت ، مذہب پر مشتمل اور دوسری زبانوں پر مشتمل لاتعداد میگزین ، سفر نامے ، بروشر کا ذخیرہ رکھتی ہے۔ اس لائبیریری میں اردو، انگریزی، سندھی ، پنجابی ، عربی اور فارسی زبانوں پر مشتمل تقریباً 25ہزار کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اور 44جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا جیسی نایاب کتابیں جس کے محتاط اندازے کے متعلق دنیا میں صرف چار نسخے موجود ہیں، جن کی مالیت تقریباً 5کروڑ ڈالر ہے، جو کہ اس لائبریری کی زینت ہے۔ اس لائبریری میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی سریل ، مخدوم محمد ہاشم نٹوی کا لکھا ہوا قرآن پاک ، خلیفہ قاسم اور دوسرے بزرگوں اور درویشوں کی شاعری کے نایاب قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی ، عربی اور فارسی زبانوں کے چار سوسال پرانے قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔
اس لائبریری کی عمارت جو کہ ایک ریڈنگ ہال اور کتابوں کے کمرے پر مشتمل ہے ، یہ کسی بھی لحاظ سے اپنی مدد آپ کے تحت بنائی ہوئی اور ایک چھوٹے سے گاؤں کی لائبریری نہیں لگتی۔ اس لائبریری کا پیر صاحب پگارہ مرحوم ، میر علی احمد خان ٹالپر ، محمد خان جونیجو سابق وزیر اعظم ، معراج محمد خان، عمران خان، مخدوم سجاد حسین قریشی ، رسول بخش پلیجو اور کئی مشہور اسکالر اور اہم شخصیات سمیت فرانس اور برطانیہ کے کونسل جنرل اور ورلڈ بینک ناروے ڈائریکٹر جنرل وزٹ کرچکے ہیں۔

آپ کا کہنا ہے کہ اس لائبریری کوتاریخی لائبریری بنانا میرا دلی شوق اور زندگی کی خواہش تھی۔ اور آپ نے یہ لائبریری بجلی نہ ہونے والے زمانے میں بنائی۔ آپ نے دن رات ایک کرکے ان کتابوں کا ذخیرہ اکھٹاکیا تاکہ آنے والی نسلیں ان کتابوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ نے ساتھ ہی ساتھ اپنے گاؤں کو ایک مثالی گاؤں بھی بنایا ، اس گاؤں میں پرائمری اور مڈل بوائز اور گرلز اسکول ، ہاسپٹل ، پبلک لائبریری، پوسٹ آفس ، واٹر سپلائی ، پی ٹی سی ایل سروسز اور بجلی ، پکی سڑکیں اور مدرسہ و مسجد بھی موجود ہیں جو صرف آپ کی کاؤشوں کا نتیجہ ہے۔ آپ نے اپنے گاؤں میں کچھ چنے ہوئے لوگوں کو لے کر ایک تنظیم بنائی ، اور ایک باڈی بنا کر اس تنظیم کی سربراہی کررہے ہیں۔ اس تنظیم کا کام چانچ پڑتال کرنا ہے کہ ہاسپٹل میں ڈاکٹرز ہیں یا نہیں ، ادویات پوری ہیں یا نہیں ، اسکولوں میں ٹیچرز ہیں یا نہیں ، لوگوں کو صاف پانی مہیا ہورہا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس مغل ، سمہ ، ٹالیر اور دوسرے اداروں کے سکے ، تلواریں ، نیزے، ڈھالیں اور بہت سے نوادرات بھی موجود ہیں۔ جس کیلئے آپ ایک عجائب گھر کی تعمیر کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ نے علمی کاؤشوں کی بدولت بے شمار میڈلز اور تعریفی اسناد حاصل کئے ۔
اور عنقریب آپ کی لکھی ہوئی دو کتابیں تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے علم میں اضافہ کرنے کیلئے دستیاب ہوں گی۔

Wednesday, 10 August 2016

نسرین ایک گھریلو خاتون - Referred back

نسرین ایک گھریلو خاتون - Referred back
 Corrected
محنت کش خاتون " نسرین ستار" 
تحریر کردہ : سنبل نذ یر
پروفائل : ایم ۔اے پرئیوس 
رول نمبر : 61 

مردوں سے بھری اس دنیا میں جہاں عورتوں کو بھی اتنا ہی حق ہے وہاں صرف یہ حق نام کے لئے ہی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وہ مقام حاصل نہیں جس کی وہ مستحق ہیں عورتوں نے قوم کے لیے بہت سے کام سر انجام دئیے ہیں جن کی مثالیں پیش کرتی ہوں جیسا کہ ۔فاطمہ جناح جو کہ مادر ملت تھی، محترمہ بنیظیر بھٹو ،جھانسی کی رانی، آسو بائی ، بلقیس ایدھی، ملالہ یوسف زئی جیسی باکمل خواتین میں نسرین بھی شامل ہے جو کہ 1965 ؁ء 2 جون کو حیدرآباد کے علاقے صدر میں پیدا ہوئی اس کا تعلق بہت غریب گھرانے سے تھا نسرین کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا لیکن حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکے اس جدید ٹیکنا لوجی کے دور میں پاکستان کی خواتین کو ابھی مشکلات کا سامنا ہے آج بھی کئی جگہوں اور دیہاتوں میں لڑکیوں کو فوراََ بیاہ دیا جاتا ہے نسرین کی شادی بھی غریب گھرانے میں کرادی گئی شادی کرکے نسرین ٹنڈو جام گئی اور کچھ عرصے کے بعد وہ جامشورو آر بی بی کالونی میں آکے بس گئی اس کا شوہر پرائیوٹ نوکری کرتا تھا شادی کے بعد بھی نسرین کی قسمت و حالات بدل نہ سکے نسرین اور اس کے شوہر کے کاندھوں پر بچوں کی پرورش کی ذمہ داری ، تعلیم کے اخراجات جو کہ کم آمدنی میں پورے کرنا مشکل تھے اس نے اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخلہ دلوا دیا بچوں کے پروان چڑھنے سے قبل ہی اس کا شوہر خالق حقیقی سے جا ملا جس کے بعد وہ بہت اکیلی ہوگئی اور ساری ذمہ داری اس کے سر آگئی۔ سسرال والوں کے حالات ایسے نہ تھے کہ اس کا یا اس کے بچوں کا پیٹ بھر سکیں یہی حال میکے والوں کا بھی تھا نسرین پریشان رہنے لگی وہ اپنے بچوں کی پڑھائی تو دور گھر کے اخراجات جیسا کہ بچوں کے پہننے ،اوڑھنے ،کھانے،پینے جیسی سہولیات نہیں دے سکتی تھی نسرین نے ہمت نہ ہاری ان مسائل کو حل کرنے کے لئے گھر گھر جا کر کھانا پکانا ، صفائی ستھرائی کرنے لگی کہا جاتا ہے کہ " محنت میں عظمت " ہے لیکن یہ عظمت مردوں کے حصوں میں اور محنت عورتوں کے حصوں میں آتی ہے نسرین گھر گھر کا کام کرکے 3 سے چار ہزار کماتی اور ساتھ میں لوگوں کی باتوں رشتے داروں کے طعنوں کا سامنہ کرتی مردوں کی بُری نظرنے اس کے لئے حالات اور مشکل بنا دیئے لیکن وہ پھر بھی محنت کرتی رہی۔اس سے بھی وہ اپنے بچوں کے اخراجات پورے نہیں کر پائی کیونکہ نسرین اپنے بچوں کو تعلیم دینا چاہتی تھی یہی وہ مگن تھی جس نے اسے کبھی تھکنے نہ دیا لہٰذا نسرین نے اخراجات پورے کرنے کے لئے سلائی بھی شروع کردی شاید اسی دن کے لیے والدین بچوں کو خاص طور پر بیٹیوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہنر سکھاتے ہیں تاکہ وہ آئندہ کی زندگی خوشحالی سے بسر کر سکیں اسی طرح سلائی کا ہنر نسرین کی زندگی کے مسائل کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوا ۔
نسرین کی دوست پروین کا کہنا ہے کہ نسرین ان عورتوں میں سے ہے جو بغیر کسی سہارے کے مشکلات کو نظر انداز کرکے آگے بڑھتی اور اپنی محنت سے منزل تک رسائی حاصل کرتی ہے ۔
نسرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے محروم رہی لیکن سلائی کے ہنر نے اس کی زندگی کو کافی حد تک سہارا دیا اور وہ اپنے مقصد یعنی بچوں کی تعلیم و تربیت کو پروان چڑھانے میں کامیاب رہی وہ اس بات کی مرہونِ منت اپنے والدین کو ٹھراتی ہے جو اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی دعائیں اور ان کی دی ہوئی تربیت کا سہارا نسرین کوکبھی تھکنے نہیں دیتا ۔
----------             ----------------         -----------   --------------      --------        ----------          ----------
Referred back
Topic is profile, u have sent  story. U should see what a story and  profile is.
This does not carry ur name in the file
 Every profile should  carry photograph
Plz first of all  read what is profile and how it is written?
Read some ood profiles, sample are available on ur class FB group
Your this piece can not be taken as profile 
Observe proper paragraphs

نسرین ایک گھریلو خاتون 
نسرین ۲ جون ۶۵۹۱ع کو حیدرآباد کے علاقے صدر میں پیدا ہوئی نسرین کا تعلق ایک بہت غریب گھرانے سے تھا ان کے والد صاحب ایک بس ڈرائیور تھے نسرین کی ۴ بہنیں اور ۵ بھائی تھے جس کی وجہ سے گھر کے اخراجات بہت ذیادہ تھے اور آمدنی بہت کم بڑی مشکل ان کے گھر کا گزر بسر ہورہا تھا نسرین کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ان کے گھر اےسے حالات نہیں تھے کہ وہ پڑھ سکے اس لئے نسرین نے پڑھائی نہیں کی تاکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی پڑھ سکیں کیونکہ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی وہ چاہتی تھی کہ جو خرچہ اس کے تعلیم حاصل کرنے پر ہو اس خرچے سے اس کے بہن بھائی تعلیم حاصل کرلیں جیسے وقت گزرتا گیا تو سارے بہن بھائی جوان ہو گئے اور پڑھ لکھ کے بھائی اس قابل ہوگئے تھے کہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیئے اپنے والد صاحب کا ہاتھ بٹا سکے پھر اسی دوران نسرین کا رشتہ آگیا اور اس کے والدین نے نسرین کی شادی کردی نسرین شادی کے بعد ٹنڈوجام چلی گئی پھر کچھ عرصہ بعد وہ جامشورو آر۔بی۔بی کالونی میں آکر رہنے لگ گئے نسرین کا شوہر ایک پرائیوٹ جاب کرتا تھا جس  کی آمدنی اتنی ذیادہ نہیں تھی شادی کے بعد نسرین کے حالات بدل نہیں سکے پھر اس کے ۲ بییٹیاں اور ۲ بیٹے ہوگئے اب نسرین اور اس کے شوہر کے کاندھوں پر بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمیداری آگئی نسرین نے اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے بچوں کو ایک سرکاری اسکول میں داخل کر وا دیا کچھ ہی عرصہ بعد نسرین کے شوہر انتقال ہوگیا جس کے بعد نسرین بہت اکیلی ہوگئی اور اب نسرین کے کاندھوں پر بچوں کی تعلیم اور پرورش کی ذمیداری آگئی نسرین کے سسرال اور میئکے کے حالات ایسے نہ تھے بچوں کی پڑھائی کی ذمیداری اٹھاتے نسرین بہت پریشان تھی کہ وہ کیا کرے بچوں کی تعلیم تو بہت دور کی بات گھر میں کھانے کو اناج ایک دانا نہیں تھا ایسے میں نسرین کو مجبور ہو کر اپنے بچوں کے خاطر گھر سے باہر کام کی تلاش میں نکلنا پڑا کافی بھاگ دوڑ کے بعد نسرین کو ایک ہاسٹل میں جاب مل گئی ہاسٹل کی جو میڈم تھی نسرین ان کے گھر کام کرنے لگی گھر کا تمام کام کھانا پکانا صاف صفائی سب نسرین کی ذمیداری تھی نسرین پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن آج نسرین کو احساس ہورہا تھا کہ اس نے تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج ایک اچھی جاب نسرین کو مل جاتی لیکن نسرین نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم کے ذیور سے بھی آراستہ کیا نسرین کی بڑی بیٹی مہتاب آج کراچی کے ایک کالج میں لیکچرار ہے اور دوسری بیٹی (ماروی ) ھاسٹل کی انچارج ہے نسرین نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کردی جو اپنے گھر میں بہت خوش ہے نسرین کی چھوٹی بیٹی نے گھر کی تمام ذمیداری سنبھالی ہوئی ہے نسرین آج بھی وہی کام کر رہی ہے نسرین نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاہیے بلکہ خود باہر نکل کر محنت کی اور اسی محنت کی کمائی سے اس نے اپنے بچوں کو پڑھایا لکھایا اور ان کو اس قابل بنایا کہ وہ آج بہتر زندگی بسر کررہے ہیں نسرین کے دونوں بیٹے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں ہیں نسرین کو امید ہے کہ جلد اس کے بیٹوں کو اچھی جگہ نوکری مل جائے گی نسرین بہت خوش ہے اور اﷲ کا بہت شکر ادا کرتی ہے کیونکہ زندگی کے مشکل دور میں اسے صرف اﷲ کا ہی سہارا تھا 

سنگار علی موسیقار - پروفائل : محمد عمیر

pic???
Corrected
پروفا ئل ( ۱ ) 
محمد عمیر ایم اے 
رول نمبر ۴۲ سنگار علی موسیقار 

چھوٹے لوگوں میں بھی بڑافن موجود ہوتا ہے ہمارے ملک پاکستان میں موسیقی کی دنیا میں بڑے بڑے نام موجود ہیں جوکہ نا صرف علاقائی بلکہ ملکی سطح پراپنا اور اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کرتے آئے ہیں۔سنگارعلی مو سیقی کی دنیا میں اپنا نام اور لوگوں کے درمیا ن محبتے باٹنے کا نیا عذم لیے ۱۹۷۶ ء کوبلوچستان کے ضلع لھڑی میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام نواب خان ہے۔ ابتدائی تعلیم ضلع لھڑی کے گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی۔بچپن میں اپنی علاقائی موسیقی سن کر متاثر ہوئے اور موسیقی سیکھنے میں اپنی پوری دلچسپی زاہر کی تعلیم کے میدان میں ان کی تعلیم مڈل کلاس تک ہے۔
انہوں کا تعلق رندبلوچ برادری سے ہے ان کے والدایک چھوٹے زمیندارہیں ۱۹۹۰ ء سے موسیقی سیکھنے کے لیے ماہر موسیقاراستاد الطاف حسین منگراڈکی خدمات حاصل کی اورموسیقی سیکھنے کا آغاز کیا جس کی خاطرروزتین کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ان کے استاد الطاف حسین منگراڑ ضلع لھڑی میں بلوچی زبان کے بہترین موسیقار کے نام سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں جو کہ بلوچی زبان کے بڑے بڑے فنکاروں کے ساتھ اپنے فن کا جادو جگا چکے ہیں ۔
سنگار علی کے ساتھ مزید پانچ شاگرد موسیقی سیکھنے آتے تھے پر وہ وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے مگر مو سیقی کی دنیا میں اپنی منزل پانے اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنے کے نئے خوابوں نے سنگار علی کو آخرایک موسیقار بنا دیا۔اور ۱۹۹۷ ء کو ضلع لھڑی سے اپنی مو سیقی کے فن کا با قاعدہ آغاز شروع کرا ۔اپنے صوبے کے ادبی ثقافتی کلچر کے مختلف پروگراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں ۔ 
انھیں ڈھولک نوازی پر خاص مہارت حاصل ہے سندھ بلوچستان کے اب تک سو ۱۰۰ سے زائد میلوں اور کلچرل پروگراموں میں بطور میوزیشن کے رنگ بکھیرتے آئے ہیں۔سندھی بلوچی زبان میں شاعری بھی لکھی اور اسے اپنے سروں میں سما کراپنی شاعری سے لوگوں میں محبت اور پیار کے جنون کو بڑھانے کی اب تک کوشش جاری ہے ۔ ۲۰۱۰ ء میں شد ید بارشوں کی وجہ سے سنگارعلی کی فصل تباہ ہو گی اور مشکل حالات میں وہ بلوچستان سے تجارت کر کے حیدرآبادسندھ آگے۔ان کی شخصیت میں سادگی اور لوگوں سے کردار نہایت ہی خشگوار رہا ہے شلوار قمیض ان کا پسندیدہ لباس ہے۔موسیقی ایک ایسی ندی کی طرح ہے جس کا رہنما لازمی ہے اس وقت سنگارعلی کی رہنمائی میں چارشاگرد ، جمال بھٹی، رجب چانڈیو ، ہاشم، اور محبوب علی چانڈیو، ہیں۔جن کا کہنا ہے استاد نے اپنے اس فن سے لوگوں میں اپنی پہچان بنائی اور ہمیں ایک دوستی 
جیسے ماحول میں استاد اپنی صلاحیتوں سے ہمکنارکر رہے ہیں۔ 
عطااللہ خان نیازی جن کو موسیقی کی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے وہ بھی ایک ٹرک ڑرائیور تھے ۔بد قسمتی سے سنگارعلی موسیقی میں بڑا مقام حاصل نہ کر سکے وقت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹرک بھی چلاتے ہیں صبح سویرے جب گنگناتے ہوئے اپنے سفر پر نکلتے ہیں تو ان 
( ۲)
کے چہرے پر خشی کا سماع ہوتا ہے ۔ اور یوں ٹرک کے باقی سا تھی بھی ان کی آوازسے لطف اندوز ہوتے ہیں جو کہ سفر کو چار چاند اور تفریح کے ساتھ اپنے سفر کو مکمل کرتے ہیں۔
سنگار علی بہترین اور حقیقی موسیقار ہیں انھوں نے کہا آج کے نوجوان ایسی موسیقی سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔بلوچی زبان کی صوفیانہ شاعری کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی،سچل سرمست،کی شاعری کو بھی اپنے سرُوں میں سجاتے ہیں اور اور انھوں نے اپنے اس فن کو اب تک حیدرآباد میں بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ان کی موسیقی سن کر آس پاس کے لوگ کافی خوش ہوتے ہیں ۔سنگار علی واحد وہ شخص ہیں جو اپنے خاندان میں موسیقی کی طرف آئے جس کو حاصل کرنے کے لیے دل لگا کر محنت کی اپنے اس شوق اور خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ا وراس فن سے کافی خوش ہیں انہیں اردو گیتوں سے بھی کافی دلچسپی ہے ۔
شاید ہم ایسے فنکاروں سے مکمل فائدہ حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے فنکار دوسرے ملکوں میں اپنے فن کا لوہا منوا چکے ہیں اور انھیں اس فن کی بدولت خاص مقام حا صل ہے ۔ہمیں ایسے لوگوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا لازمی ہے ۔جواپنی آوازوں سے پیار محبت کے سرُسجا کر ہماری ہزاروں پریشانیوں کودورکر تے ہیں اور پیغام خاص دتے ہیں۔


------    --------             ----------      -------           ---------     ------  ------  ---------       ---------  ---------
پروفائل     
محمد عمیر ایم اے
          
رول نمبر ۲۴           سنگار علی موسیقار 

  چھوٹے لوگوں میں بھی بڑافن موجود ہوتا ہے ہمارے ملک پاکستان میں موسیقی کی دنیا میں بڑے بڑے نام موجود ہیں جوکہ نا صرف علاقائی بلکہ ملکی سطح پراپنا اور اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کرتے آئے ہیں۔سنگارعلی مو سیقی کی دنیا میں اپنا نام اور لوگوںکے درمیا ن محبتے باٹنے کا نیا عذم لیے ۶۷۹۱ ءکوبلوچستان کے ضلع لھڑی میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام نواب خان ہے۔ ابتدائی تعلیم ضلع لھڑی کے گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی۔بچپن میںاپنی علاقائی موسیقی سن کر متاثر ہوئے اور موسیقی سیکھنے میں اپنی پوری دلچسپی زاہر کی تعلیم کے میدان میں ان کی تعلیم مڈل کلاس تک ہے۔
انہوں کا تعلق رندبلوچ برادری سے ہے ان کے والدایک چھوٹے زمیندارہیں ۰۹۹۱ ءسے موسیقی سیکھنے کے لیے ماہر موسیقاراستاد الطاف حسین منگراڈکی خدمات حاصل کی اورموسیقی سیکھنے کا آغاز کیا جس کی خاطرروزتین کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ان کے استاد الطاف حسین منگراڑ ضلع لھڑی میں بلوچی زبان کے بہترین موسیقار کے نام سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں جو کہ بلوچی زبان کے بڑے بڑے فنکاروںکے ساتھ اپنے فن کا جادو جگا چکے ہیں ۔
سنگار علی کے ساتھ مزید پانچ شاگرد موسیقی سیکھنے آتے تھے پر وہ وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے مگر مو سیقی کی دنیا میں اپنی منزل پانے اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنے کے نئے خوابوں نے سنگار علی کو آخرایک موسیقار بنا دیا۔اور ۷۹۹۱ ءکو ضلع لھڑی سے اپنی مو سیقی کے فن کا با قاعدہ آغاز شروع کرا ۔اپنے صوبے کے ادبی ثقافتی کلچر کے مختلف پروگراموں میںاپنے فن کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں ۔ 
انھیںڈھولک نوازی پر خاص مہارت حاصل ہے سندھ بلوچستان کے اب تک سو ۰۰۱ سے زائد میلوں اور کلچرل پروگراموں میں بطور میوزیشن کے رنگ بکھیرتے آئے ہیں۔سندھی بلوچی زبان میںشاعری بھی لکھی اور اسے اپنے سروں میں سما کراپنی شاعری سے لوگوں میںمحبت اور پیار کے جنون کو بڑھانے کی اب تک کوشش جاری ہے ۔ ۰۱۰۲ ء میں شد ید بارشوں کی وجہ سے سنگارعلی کی فصل تباہ ہو گی اور مشکل حالات میں وہ بلوچستان سے تجارت کر کے حیدرآبادسندھ آگے۔ان کی شخصیت میں سادگی اور لوگوں سے کردار نہایت ہی خشگوار رہا ہے شلوار قمیض ان کا پسندیدہ لباس ہے۔موسیقی ایک ایسی ندی کی طرح ہے جس کا رہنما لازمی ہے اس وقت سنگارعلی کی رہنمائی میں چارشاگرد ، جمال بھٹی، رجب چانڈیو ، ہاشم، اور محبوب علی چانڈیو، ہیں۔جن کا کہنا ہے استاد نے اپنے اس فن سے لوگوں میں اپنی پہچان بنائی اور ہمیں ایک دوستی  
جیسے ماحول میں استاد اپنی صلاحیتوں سے ہمکنارکر رہے ہیں۔ 
عطااللہ خان نیازی جن کو موسیقی کی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے وہ بھی ایک ٹرک ڑرائیور تھے ۔بد قسمتی سے سنگارعلی موسیقی میں بڑا مقام حاصل نہ کر سکے وقت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹرک بھی چلاتے ہیں صبح سویرے جب گنگناتے ہوئے اپنے سفر پر نکلتے ہیںتو ان   
              ( ۲)
کے چہرے پر خشی کا سماع ہوتا ہے ۔ اور یوںٹرک کے باقی سا تھی بھی ان کی آوازسے لطف اندوز ہوتے ہیںجو کہ سفر کو چار چاند اور تفریح کے ساتھ اپنے سفر کو مکمل کرتے ہیں۔
 سنگار علی بہترین اور حقیقی موسیقار ہیں انھوں نے کہا آج کے نوجوان ایسی موسیقی سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔بلوچی زبان کی صوفیانہ شاعری کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی،سچل سرمست،کی شاعری کو بھی اپنے سرُوںمیں سجاتے ہیںاور اور انھوں نے اپنے اس فن کو اب تک حیدرآباد میں بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ان کی موسیقی سن کر آس پاس کے لوگ کافی خوش ہوتے ہیں ۔سنگار علی واحد وہ شخص ہیں جو اپنے خاندان میں موسیقی کی طرف آئے جس کو حاصل کرنے کے لیے دل لگا کر محنت کی اپنے اس شوق اور خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ا وراس فن سے کافی خوش ہیں انہیں اردو گیتوں سے بھی کافی دلچسپی ہے ۔
شاید ہم ایسے فنکاروں سے مکمل فائدہ حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے فنکار دوسرے ملکوں میں اپنے فن کا لوہا منوا چکے ہیں اور انھیںاس فن کی بدولت خاص مقام حا صل ہے ۔ہمیںایسے لوگوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا لازمی ہے ۔جواپنی آوازوں سے پیار محبت کے سرُسجا کر ہماری ہزاروںپریشانیوں کودورکر تے ہیںاور پیغام خاص دتے ہیں۔
  

منہاج شمسی پروفائیل - ثناء شیخ

It should be 600 plus words.
 Do not insert photo in text file 
Intro is too weak 
See what a is profile, some quotes, interesting events compare contrast  with some other known people of sukkur, hyd, sindh pakistan etc 
ثناء  شیخ

رول نمبر:۵۵
 ایم۔اے  پریویس
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن
پروفائیل:
   کھلونے بیچنے  سے فاسٹ فوڈ پوائنٹ  تک  منہاج  شمسی

منہاج شمسی  ۶۱فروری ۹۶۹۱ء کو پنو عاقل جیسے چھوٹے شہرمیں پیداہوئے ۔چندسال ہی گذرے تھے کہ اپنے والد کے ہمراہ پرانی سکھرمنتقل ہوگئے۔ابتدائی تعلیم پرانی سکھرکے ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی۔چونکہ آپ نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی توغربت سے آپ کا بہت گہرناطہ رہا۔پڑھائی میں انتہائی دلچسپی رکھتے تھے مگر غربت کے ہاتھوں مجبورہوکر پڑھائی کو خیرباد کہا اورکمانے کی غرض سے گھرسے نکل پڑے۔
چونکہ کم عمری تھی توشروعات کچھ اس طرح ہوئی کہ چھوٹے چھوٹے کھلونے لے کر شہرشہرفروخت کیا کرتے تھے اورمشکل سے ہی چند پیسے لے کر گھر پہنچاکرتے تھے اگریہ کہا جائے کہ کم عمری میں ہی آپ نے گھرکی ذمہ داریاں سنبھال لی تویہ غلط نہ ہوگا۔جس بچپن میں بچے کھلونوں سے کھیلا کرتے ہیں اسی بچپن میں آپ بچوں کے کھلونے بیچنے جایا کرتے تھے ۔کہا جاتا ہے ناجو اکثردکانوں پر چھوٹے ہوتے ہیں دراصل وہی اپنے گھرکے بڑے ہوتے ہیں۔
مسلسل محنت اور مشقت کے بعد آپ نے اپنی ہی کمائی سے گھرکے قریب ہی ایک ذاتی ٹھیہ خریدا جس پر آپ کھانے پینے کی مختلف اشیاء رکھا کرتے تھے جیسے کہ سموسے، برگر، چاٹ، پکوڑے وغیرہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اورروپیہ روپیہ جوڑ کر آپ نے خودکی دوکان خریدلی ۔جب جگہ بڑی ہوئی توکھانے کی اشیاءمیں بھی اضافہ ہوااوریوں ہی ترقی کی منزلوں کو پار کرتے گئے۔آپ کے کھانے کے ذائقے کا معیار صرف آپ کے علاقے تک ہی محدودنہ رہا بلکہ شہرسکھر میں بھی آپ کے نام کا چرچہ عام ہونے لگا۔
آہستہ آہستہ شہرت اتنی بڑھ گئی کہ آج سکھر شہرمیں آپ کا )فاسٹ فوڈ پوائنٹ) ہے جہاں روزہزاروں کی تعدادمیں چھوٹے بڑے ،طالب علم ،فیملیز اور مختلف طبقوں کے لوگ آپ کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں آپ کے(فاسٹ فوڈ پوائنٹ )کی ایک خاصیت جوآپ کو دوسرے ریسٹورینٹ سے مختلف بناتی ہے وہ ”چکن اسٹک اوربیف چلی برگر“ہے جسے دوسرے شہروں کے سیاح بھی کھانے بشوق آتے ہیں۔
آپ نے ایسا وقت بھی گزاراہے جب کھانے کو دووقت کی روٹی بھی نصیب نہیں تھی اپنی غربت کا وقت یادرکھتے ہوئے اورانسانیت کے ناطے آپ نے مزدوروں اور غریب طبقوں کے لئے ایک دیسی ڈھابہ کھولا جہاں آج کے زمانے میں ۰۱ روپے کے نوٹ کی کوئی اہمیت نہیںوہاں آپ ۰۱روپے میں غریبوں کو پیٹ بھرکھانا مہیا کرتے ہیں جس میں چاول،روٹی، سبزی،دال ،حلیم،نہاری وغیرہ شامل ہیں۔
خود پڑھائی کاشوق پورانہ کرسکے اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں کوئی کثرنہ چھوڑی،خدانے آپ کو دوبیٹے اورایک بیٹی سے نوازا۔بڑابیٹاجوکہ بزنس کے شعبے سے وابسطہ ہے جبکہ چھوٹابیٹا جوکہ انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے اور بیٹی جس کی تعلیم ابھی جاری ہے ۔آپ کی زندگی کے پہلوﺅں پر ایک ڈاکومینٹری (Documentry)بھی بنائی گئی اورکسی نجی چینل کے ایک صحافی نے آپ کا انٹرویوبھی لیاتھا جس میں اپنے پرانے وقت کو یادکرتے ہوئے آپ نے ایک خوبصورت بات کہی کہ ”انسان کو اپنا پرانہ وقت نہیں بھولنا چاہیئے ہمیشہ اپنے سے کمترلوگوں سے کچھ سیکھنا چاہیئے“کیونکہ اگرانسان میں تکبرآجائے تووہ انسان کو انسان نہیں شیطان بنادیتا ہے۔
آج اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ”منہاج شمسی “ایک سادہ زندگی گزارنے کو پسند کرتے ہیں ۷۴ سال عمرہونے کے بعد بھی محنت اورلگن سے کمانے کا جذبہ آج بھی عروج پر ہے منہاج شمسی غریبوں کواپنا دوست اور مزدوروں کو اپنا ہمدردسمجھتے ہیں اگرآپ کو غریبوں کا مسیحا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

زرین شہاب کا پروفائل - تحریر: ماریہ شیخ

Its around 450 words, while 600 words are needed
Profile intro should be  interesting like feature. This is biography not profile.  See what is profile, also read some good profiles available on FB group
 Composing mistakes

زرین شہاب
پروفائل
تحریر: ماریہ شیخ


13مارچ  1942مےں آپ میر پور خاص میں پیدا ہو ئیں ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی پڑھائی کا انتہائی شوق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد ایک سرکاری دفتر مےں جونییئر کلرک تھے۔ آپ ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپکے والد صاحب کے گزر نے کے بعد غربت نے ایسا جکڑا کے پڑھائی تو ایک طرف رہ گئی اور چونکہ گھر مےں آپ سب سے بڑی تھیں تو ذمہ داریوں کا بوجھ آپ کے کاندھے پر آگیا ۔ 

چونکہ پڑھائی حالات کی وجہ سے چھوڑنی پڑی لیکن ہنر ایک ایسی چیز ہے جو بھوکا نہیں مارتا یہی ہنر آپ کے کام آیا پکانے کا شوق اور ہنر آپکے ہاتھ مےں تھا تو اسی کا کام آگئے بڑھاتے ہوئے آپ نے اپنے حالات کو بہتربنانے کو سوچا شروعات مےں آپ نے پمفلیٹس بنا کے محلے اور علاقے کے دیواروں پر لگائے تاکہ لوگوں کو آپ کے اس کام کا چکا چلے۔ 

پھر مختلف گھروں سے وہ بچیاں جو کہ کھانے پکانے کا شوق رکھتی تھیں۔ وہ آپ تک رسائی کرنے لگیں اس طرح آپ کا کام یونہی چلتا رہا شروعات مےں 5پھر10اور اسی طرح لڑکیوں کی تعداد مےں اضافہ ہو تا گیا اور اس طرح انہوں نے گھر مےں ہی ایک تربیت گاہ کھول لیا۔ 
آپ کی دوسری بہنوں نے بھی آپ کا اس کام مےں ہاتھ بٹایا اور پھر اسی طرح گھر کے حالات کچھ بہتری کی طرف بڑھنے لگے اور روشنی کی ایک کرن نظر آنے لگی اور پھر یہی کام اپ کی کامیابی کی سیڑھی بنتا گیا مسلسل محنت و مشقت کے بعد آپ نے اپنی بہنوں کی شادیاں کروائی اور پھر خود بھی رشتہ ازدواج مےں بندھ گئیں۔

شادی کے بعد آپ کراچی میں قائم پذیر ہیں اور شادی کے بعد بھی آپ نے اپنے اس کاروبار کو جاری رکھا ہے اور کراچی مےں ہی ایک ہوم ایکنامکس اسکول مےں آپ کو نوکری ملی۔ اور آپ اپنا Instituteبھی چلاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ آپ سوشل ورک بھی کرتی ہیں ان عورتوں کی امداد جن کے پاس ہنر تو ہے مگر وسائل نہےں ہے ۔ 

زرین شاہاب کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہےں ہوتا اگر عورت اپنی طاقت اور ہنر کو سمجھ لے تو وہ کامیاب بن سکتی ہے کیونکہ کہتے ہیں یہ کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے آپ ایک نرم دل کی مالک ہیں کیونکہ آپ نے ایک بہتر زندگی گزارتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ عورتوں کی مدد کرنا آپ نے اپنا فرض سمجھا ہے تو غلط نہ ہوگا۔