Showing posts with label ثناء. Show all posts
Showing posts with label ثناء. Show all posts

Monday, 22 August 2016

پاکستانی فلمیں اور سینما گھروں کا رجحان - ثناء شیخ


ثناء شیخ
رول نمبر:۵۵
ایم۔اے (پریویس)
میڈیااینڈکمیونیکیشن
آرٹیکل:
پاکستانی فلمیں اور سینما گھروں کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
فلم تمام مواصلات کی تراکیب کی سب سے زیادہ طاقتورقسم ہے ۔جو انسان کی نفسیات پر گہرااثرچھوڑ جاتی ہے اوریہی گہرااثرمعاشرے پراثراندازہوتا ہے چاہے وہ ہالی وڈہو ،بالی وڈیالولی وڈکسی بھی ملک کی فلم انڈسٹری اس ملک کی ثقافت سے پوری دنیاکوروشناس کرواتی ہے اوریہیں سے ان کی ترقی کا پتہ بھی چلتا ہے کہ وہ کس طرح کا کلچرپروموٹ کررہی ہیںیا کرناچاہتی ہیں ۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور عروج کی بحث ہمارے ہاں کافی عرصے سے جاری ہے ۔اخبارات ہوںیاٹی وی کے پروگرام ہر جگہ ماہرین اپنی رائے کا اظہار کرتے نظرآتے ہیں 70's60's,50'sکی دہائی میں پاکستانی فلم انڈسٹری کا بامِ عروج کا دورتھا جہاں ایسی فلموں کے نام یادآتے ہیں جو اپنی کہانی ،اداکاری ،موسیقی ،گلوکاری اورہدایت کاری کے حوالے سے ناقابلِ فراموش ہیں جیسے کہ کوئل،نیند،فرنگی،آئینہ،سچائی ،انصاف اورقانون، ہیررانجھا ،امراؤجان ادا،خاموش رہووغیرہ ۔پھرہم نے (1988-2002)کا دوربھی دیکھا جہاں گھرکب آؤگے اورچوڑیاں جیسی فلموں نے بے پناہ شہرت حاصل کی ۔ایک اندازے کے مطابق 80کی دہائی میں ہمارے ملک میں سینما گھروں کی تعداد1100تھی جوکم ہوکر120رہہ گئی ہے ۔کسی دورمیں پاکستان مین سالانہ 100فلیمیں بڑے پردے کی رونق بنتی تھیں جن کی تعدادکم ہوکرآج چندرہہ گئی ہے۔پاکستانی فلمی سینمانے وہ وقت بھی دیکھاجب ایک بینرکے نیچے دس دس فلمیں چلتیں تھیں4158یکن بدقسمتی سے اورصرف بدقسمتی ہے کہ اب پاکستانی فلم انڈسٹری پچھلی چنددہائیوں سے بدترین زوال کا شکارہے۔جوکہ اب کچھ بہتری کی طرف آتی دکھائی دیتی ہے ۔
دراصل لوگ میعاری اورسستی تفریح چاہتے ہیں ۔غیرمعیاری اورعامیانہ فلموں نے لوگوں کو سینماگھروں سے دورکردیا اوررہی سہی کثرکیبل اور انٹرنیٹ نے پوری کردی (2002-2009)مشرف کے دورمیں انڈین فلموں کو سینماؤں کی زینت بنا کر لوگوں کو مغلِ اعظم جیسی پرانی اور عشقیہ فلموں کی طرف ایسا دوڑایا گیا کہ آخرکارسینماہالزآہستہ آہستہ خالی ہونے لگے۔انٹرنیٹ اورسوشل میڈیانے ایسے قدم جمائے کہ سینماگھرویران ہوگئے ۔گھربیٹھے لوگ ڈاؤن لوڈنگ اورآن لائن فلمیں دیکھنے لگے ۔اب اگرفلمی صنعت پر نظرڈالی جائے توبہت کوششوں کے بعدپاکستانی فلم انڈسٹری ایک بارپھر کامیابی کے سفرپر چل پڑی ہے۔یہی فلمسازی کو بہترین وقت ہے یہ دورنوجوانوں کا دورہے جواچھی سوچ کے ساتھ فلمیں بنارہے ہیں ۔ہمارے فنکاروں میں بھرپورصلاحتیں موجودہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فلمیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ان کی کامیابی نے دنیابھرمیں فلم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اورگذشتہ چندماہ کے دوران اس سلسلے میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سمیت دنیا بھرمیں موجودفلم کے شعبے سے وابستہ افراد نے پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کو اہم قراردیااوراس کی تعریف بھی کی۔
اگرحیدرآباداورکراچی جیسے سندھ کے بڑے شہروں کی بات کی جائے جہاں پاکستانی فلمیں اورلوگوں کا سینما گھروں کی طرف بڑھتاہوارجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری بتدریج ترقی کی جانب گامزن ہے جیسے کہ 70اور80کی دہائی میں تھی۔کراچی میں CinemexاورNueplexجیسے لاتعدادسینماگھرموجودہیں جبکہ حیدرآبادمیں سینما گھروں کی تعدادصرف تین (3)ہیں جن میں سینی موش ،شہاب اوربمبینو شامل ہیں۔بھارتی فلموں سے لطف اندوزہونے والی قوم آج پاکستانی فلمیں دیکھنے کو زیادہ فوقیت دے رہی ہے حال میں ریلیزہونے والی بِن روئے ،کراچی سے لاہور،نامعلوم افراد،جوانی پھرنہیں آنی اوررا نگ نمبرجیسی پاکستانی فلموں نے فلم انڈسٹری میں ایک نئی روح پھونک دی ہے ۔پاکستانی سینما گھربھی پاکستان فلموں کو پروموٹ کرنے میں اہم کرداراداکررہے ہیں ۔خداکے لئے،بول اورواریہ تین فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان میں ریکارڈبزنس کیا بلکہ ان فلموں کو انڈیااوردنیابھرمیں بھی بہت سراہا گیا ۔جس تیزی سے پاکستان میں فلمیں بن رہی ہیں لگتا ہے وہ وقت دورنہیں جب پاکستانی فلمی شائقین کا رجحان پھرسے اپنے ملک میں بننے والی فلموں کی طرف ہوجائے گا۔لوگ چاہے کسی بھی ملک یا طبقے سے تعلق رکھنے والے ہوں فارغ اوقات میں لطف اندوزہونے کیلئے سینماگھروں کی طرف رُخ کرتے ہیں اس لئے ملک کے تمام بڑے شہروں میں نئے اور جدیدٹیکنالوجی پر مبنی سینما گھروں کاقیام ہوناچاہئیے جویقیناًشائقین کو اپنی طرف راغب کرنے میں کافی حدتک مددگارثابت ہونگے ۔

Tuesday, 16 August 2016

قدیم سندھ کا بلند ترین عجوبہ :میرمعصوم شاہ کا مینار



ثناء شیخ
رول نمبر:۵۰
میڈیااینڈ کمیونیکیشن
ایم۔اے(پریویس)
فیچر
قدیم سندھ کا بلند ترین عجوبہ :میرمعصوم شاہ کا مینار
سکھر سندھ کا تیسرابڑاشہر ہے جس کے آثارقدیمہ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سکھرشہرموہن جو دڑوکے زمانے کا شہر ہے جہاں سندھ کی ہزاروں تاریخیں لکھی گئی ہیں ۔اگر تاریخی مقامات کی بات کی جائے توسکھرشہر کا نام سرِ فہرست آتا ہے ۔جہاں کا ہر تاریخی مقام اپنی داستان بیان کرتا نظرآتا ہے اب وہ چاہے سادوبیلا ہو یا سات سہیلیوں کا مزار چاہے صدرالدین بادشاہ کا مزار ہو ہر مقام اپنی مثال آپ پیش کرتا ہے ایسا ہی ایک مقام سندھی مسلم تاریخ کا مشہور نام مشہورمصنف سندھ کی تاریخ کو قلم بندکرنے والے سید نظام الدین شاہ کا مزار ہے جسے لوگ میرمعصوم شاہ کے مزارکے نام سے بھی جانتے ہیں اگر اس معصومی مینار کو
دنیا کے عجوبوں میں سے ایک عجوبہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ 
میر معصوم شاہ نے اس مزار کو بنوانے میں خود حصہ لیاتھا چارسو سال پرانا یہ مزار تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس مینار کو مکمل ہونے میں تیئیس سال لگے تھے شہنشاہ اکبر کی نگرانی میں یہ مزار سولہ سو پانچ ۱۶۰۵ھ میں مکمل ہواجس کا افتتاح شہنشاہ جلال الدین اکبر نے خود کیا تھا ۔میری معصوم شاہ کا مینار دہلی کے قطب مینار کی طرز پر تعمیرکیا گیا تھا۔

میر معصوم شاہ سولہویں صدی کے سندھی مسلم تاریخ دان،طب سازاورمشہورمصنف بھی تھے ۔انہوں نے ایک تاریخی کتاب بھی لکھی تھی جسے دنیا ’’تاریخ معصومی ‘‘کے نام سے جانتی ہے ۔میر معصوم شاہ کو شاعری بہت پسندتھی اس لئے انہوں نے یہ مینار تعمیرکروانے سے پہلے بارہ دری بنوائی جسے فیض محل یا آرام گاہ بھی کہا جاتا ہے جہاں اکبر بادشاہت کے زمانے میں مجالس اور شاعری کے پروگرام منعقد کروائے جاتے تھے میر معصوم شاہ کے مینار،دیواروں،گنبدوں اور فیض محل کے چاروں اطراف میں خوبصورت خطاطی کی گئی ہے اوراس میں استعمال کئے گئے ٹائلز فنِ خطاطی کا بہترین نمونہ ہے۔خطاطی کے علاقہ خوبصورت نقش و نگار مغلیہ دورکے فنِ تعمیرکی یاد دلاتا ہے۔چونکہ اس زمانے میں کوئی سیمنٹ موجودنہیں تھی اس لئے دال اور چلولی کا مٹیریل ڈال کر اس مینار کو بنوایا گیا جس کی مضبوطی چارسو سال سے قائم و دائم ہے۔
ایک دلچسپ بات جو اس تاریخی مینار کو باقی مقامات سے منفردبناتی ہے اس میں عددچوراسی کو خاص اہمیت حاصل ہے معصوم شاہ کا مینار لال اینٹوں سے بناصوبہ سندھ کا اونچا اور قدیم ترین مینارہے۔سکھر کی یہ واحد عمارت ،مختلف پہلوؤں سے عددچوراسی سے جڑی ہے ۔یہ پورا کا پورا معصومی مینار عددچوراسی پرمشتمل ہے۔جس کی اونچائی بھی چوراسی فٹ ہے ،چوڑائی بھی چوراسی فٹ ہے،گہرائی بھی چوراسی فٹ ہے اورگولائی بھی چوراسی فٹ ہے اس مینار تک پہنچنے کیلئے جو سیڑھیاں درکار ہیں وہ بھی چوراسی ہیں۔مینارپر چڑھنے کیلئے جوسیڑھیوں کی راہ داری ہے وہ نہایت تنگ ہے اس لئے کسی صحت مند انسان کو مینار کو طے کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ا س معصومی مینار کو بطورواچ ٹاوربنوایاگیا تھا اوراس کو بنوانے کا بنیادی مقصدیہی تھا کہ اس مینار تک پہنچ کر سکھرشہرکے دلفریب مناظردیکھے جاسکیں اس مینارسے بہتا دریائے سندھ اوراس پر واقع سکھربیراج بھی بخوبی دیکھا جاسکتا ہے جس طرح ایک پرندہ اونچائی سے سارے مناظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرلیتا ہے ایسے ہی یہاں آنے والے سیاح بھی ان مناظرکو اپنی آنکھوں میں
نظربندکرلیتے ہیں۔
سکھر کے مختلف علاقوں سے میرمعصوم شاہ کے مریدیایوں کہیں کہ ان کے ماننے والے اور ہزاروں کی تعداد میں روزاس مینار کا دورہ کرنے آتے ہیں اور مختلف انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کچھ لوگ فاتحہ پڑھتے ہیں توکچھ چادریں چڑھاتے ہیں ،کچھ لوگ قرآن خوانی کرتے ہیں تو کچھ لنگرچلا کر اپنی محبتوں کو نظرانہ پیش کرتے ہیں ۔اس مینار کے قریب میرمعصوم شاہ کی قبر کے ساتھ ساتھ ان کے دلعزیزرشتہ داروں اورآباؤاجدادکی قبریں بھی واقع ہیں جن کو قرآنی آیات اور فارسی کی کلمات سے سجایا گیا ہے اورجو سازوسامان اس میں استعمال کیا گیا ہے سرخ بلواپتھر،سرخ اینٹیں ،سنگِ مرمراورشیشے کے کورشامل ہیں۔
پہاڑ کی چوٹی پر واقع یہ مینارچار منزلوں پر مشتمل ہے اورہر منزل پر دریچے بھی بنائے گئے ہیں جہاں سے سکھر شہر کے حیرت انگیز مناظر کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔اس مینارمیں استعمال ہوا پتھرمیرمعصوم شاہ بکھری نے جے پور سے منگوایا تھا۔ سکھر جیسا گرم ترین شہر ہونے کے باجودبھی ان اینٹوں کی تاثیرٹھنڈی رہتی ہے ۔مینار کی اونچائی پر بنے ہوئے گنبدپر کاریگری کے لئے کاریگر بھی ہالاسے بلوائے گئے تھے۔پرانے وقتوں میں اس مینار پر کوئی جالیاں نسب نہیں تھیں ۔برطانوی دورمیں کئی افرادنے اس مینارسے کودکرخودسوزی کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے انگریزوں نے مینارکے اطراف میں لوہے کی سلاخیں نسب کرائیں ۔اس مینارکے بارے میں یہ بھی کہا جاتاہے کہ فیض محل بارہ دری کی طرف تھوڑاجھکاہوا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سندھ میں شدیدزلزلے کے بعد جھکا ہے اورکچھ کا مانناہے کہ یہ معصوم شاہ کی کاریگری کا ہی کوئی کمال ہے ۔
سندھ میں شدیدزلزلے کے باعث اس قدیم عمارت کو گہرا نقصان پہنچاتھا۔حال ہی میں اس کی مرمت کیلئے فیڈرل گورنمنٹ نے پچیس ملین منظور کروائے تھے ۔لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اب تو صرف ہوامیں تیر چلانے کی رسم پوری کی جارہی ہے ۔اس مینار کی دیکھ بھال کے لئے ایک ٹھیکیداربھی رکھا گیا ہے جبکہ معصومی خاندان کے چشم و چراغ اس تاریخی مینار کی نگرانی کرتے ہیں اس مینار کی زیارت کرنے کیلئے ٹکٹ لگایاگیا ہے ۔ٹکٹ خریدنے کیلئے نوجوانوں سے بیس روپے اوربچوں سے دس روپے لئے جاتے ہیں مینار کے قریب معصوم شاہ کے چاہنے والوں کیلئے ایک مسجد بھی تعمیرکروائی گئی ہے جو’’چاندمسجد‘‘کے نام سے مشہور ہے جہاں ان کے مریدخصوصی طورپر نماز عیداداکرنے آتے ہیں اورآس پاس کے رہائشی بھی بالخصوص نمازِ جمعہ اداکرنے اسی مسجد کا رُخ کرتے ہیں۔چارسوسال پرانا یہ مینارآج بھی سندھ کی تاریخی ثقافت کوزندہ رکھے ہوئے ہے یہ میناراب سندھ محکمہ اوقاف کی نگرانی میں ہے اوراس مینارکو ہماری آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی تاریخ کے ان پنّوں سے روبروہوسکیں اوراس مینارسے دیکھے جانے والے سکھرشہرکے خوبصورت مناظرسے لطف اندوزہوسکیں۔

Wednesday, 10 August 2016

منہاج شمسی پروفائیل - ثناء شیخ

It should be 600 plus words.
 Do not insert photo in text file 
Intro is too weak 
See what a is profile, some quotes, interesting events compare contrast  with some other known people of sukkur, hyd, sindh pakistan etc 
ثناء  شیخ

رول نمبر:۵۵
 ایم۔اے  پریویس
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن
پروفائیل:
   کھلونے بیچنے  سے فاسٹ فوڈ پوائنٹ  تک  منہاج  شمسی

منہاج شمسی  ۶۱فروری ۹۶۹۱ء کو پنو عاقل جیسے چھوٹے شہرمیں پیداہوئے ۔چندسال ہی گذرے تھے کہ اپنے والد کے ہمراہ پرانی سکھرمنتقل ہوگئے۔ابتدائی تعلیم پرانی سکھرکے ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی۔چونکہ آپ نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی توغربت سے آپ کا بہت گہرناطہ رہا۔پڑھائی میں انتہائی دلچسپی رکھتے تھے مگر غربت کے ہاتھوں مجبورہوکر پڑھائی کو خیرباد کہا اورکمانے کی غرض سے گھرسے نکل پڑے۔
چونکہ کم عمری تھی توشروعات کچھ اس طرح ہوئی کہ چھوٹے چھوٹے کھلونے لے کر شہرشہرفروخت کیا کرتے تھے اورمشکل سے ہی چند پیسے لے کر گھر پہنچاکرتے تھے اگریہ کہا جائے کہ کم عمری میں ہی آپ نے گھرکی ذمہ داریاں سنبھال لی تویہ غلط نہ ہوگا۔جس بچپن میں بچے کھلونوں سے کھیلا کرتے ہیں اسی بچپن میں آپ بچوں کے کھلونے بیچنے جایا کرتے تھے ۔کہا جاتا ہے ناجو اکثردکانوں پر چھوٹے ہوتے ہیں دراصل وہی اپنے گھرکے بڑے ہوتے ہیں۔
مسلسل محنت اور مشقت کے بعد آپ نے اپنی ہی کمائی سے گھرکے قریب ہی ایک ذاتی ٹھیہ خریدا جس پر آپ کھانے پینے کی مختلف اشیاء رکھا کرتے تھے جیسے کہ سموسے، برگر، چاٹ، پکوڑے وغیرہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اورروپیہ روپیہ جوڑ کر آپ نے خودکی دوکان خریدلی ۔جب جگہ بڑی ہوئی توکھانے کی اشیاءمیں بھی اضافہ ہوااوریوں ہی ترقی کی منزلوں کو پار کرتے گئے۔آپ کے کھانے کے ذائقے کا معیار صرف آپ کے علاقے تک ہی محدودنہ رہا بلکہ شہرسکھر میں بھی آپ کے نام کا چرچہ عام ہونے لگا۔
آہستہ آہستہ شہرت اتنی بڑھ گئی کہ آج سکھر شہرمیں آپ کا )فاسٹ فوڈ پوائنٹ) ہے جہاں روزہزاروں کی تعدادمیں چھوٹے بڑے ،طالب علم ،فیملیز اور مختلف طبقوں کے لوگ آپ کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں آپ کے(فاسٹ فوڈ پوائنٹ )کی ایک خاصیت جوآپ کو دوسرے ریسٹورینٹ سے مختلف بناتی ہے وہ ”چکن اسٹک اوربیف چلی برگر“ہے جسے دوسرے شہروں کے سیاح بھی کھانے بشوق آتے ہیں۔
آپ نے ایسا وقت بھی گزاراہے جب کھانے کو دووقت کی روٹی بھی نصیب نہیں تھی اپنی غربت کا وقت یادرکھتے ہوئے اورانسانیت کے ناطے آپ نے مزدوروں اور غریب طبقوں کے لئے ایک دیسی ڈھابہ کھولا جہاں آج کے زمانے میں ۰۱ روپے کے نوٹ کی کوئی اہمیت نہیںوہاں آپ ۰۱روپے میں غریبوں کو پیٹ بھرکھانا مہیا کرتے ہیں جس میں چاول،روٹی، سبزی،دال ،حلیم،نہاری وغیرہ شامل ہیں۔
خود پڑھائی کاشوق پورانہ کرسکے اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں کوئی کثرنہ چھوڑی،خدانے آپ کو دوبیٹے اورایک بیٹی سے نوازا۔بڑابیٹاجوکہ بزنس کے شعبے سے وابسطہ ہے جبکہ چھوٹابیٹا جوکہ انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے اور بیٹی جس کی تعلیم ابھی جاری ہے ۔آپ کی زندگی کے پہلوﺅں پر ایک ڈاکومینٹری (Documentry)بھی بنائی گئی اورکسی نجی چینل کے ایک صحافی نے آپ کا انٹرویوبھی لیاتھا جس میں اپنے پرانے وقت کو یادکرتے ہوئے آپ نے ایک خوبصورت بات کہی کہ ”انسان کو اپنا پرانہ وقت نہیں بھولنا چاہیئے ہمیشہ اپنے سے کمترلوگوں سے کچھ سیکھنا چاہیئے“کیونکہ اگرانسان میں تکبرآجائے تووہ انسان کو انسان نہیں شیطان بنادیتا ہے۔
آج اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ”منہاج شمسی “ایک سادہ زندگی گزارنے کو پسند کرتے ہیں ۷۴ سال عمرہونے کے بعد بھی محنت اورلگن سے کمانے کا جذبہ آج بھی عروج پر ہے منہاج شمسی غریبوں کواپنا دوست اور مزدوروں کو اپنا ہمدردسمجھتے ہیں اگرآپ کو غریبوں کا مسیحا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔