Showing posts with label Media. Show all posts
Showing posts with label Media. Show all posts

Monday, 22 August 2016

ہمارا معاشرہ آج کا میڈیا - محمد عمیر

Plz follow outline. It is not according to outline


Muhammad Umair
نام : محمد عمیر
کلاس : ایم اے
رول نمبر : ۴۲
 ہمارا معاشرہ آج کا میڈیا
ارٹیکل
دنیا نے اُنسیویں صدی سے بے پناہ ترقی کی اور اس دور جدیدمیں ریڈیو ، ٹی وی ، اور اخبارات ، کا بڑھتا ہوا سمندر نظر آیا جوانسانی زندگی میں جلد اور اہم تبد یلیاں لانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ہمارے ملک میں ایسے ہزاروں مسائل موجود ہیں جو دیکھنے میں تو بہت چھو ٹے نظر آتے ہیں پر ان پر غوروفکر کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہمارے ملک کی زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔پر میڈیا ان کے مسائلوں کو ہائی لائٹ کرنے میں ناکام نظر آتا ہے ۔ چھو ٹے قصبوں میں رہنے والے لوگوں کے مسائل کو میڈیا اتنی کوریج نہیں دیتا ۔جتنا کہ سیا ست اور بڑے شہروں کی خبروں اور ان پر مبنی پروگراموں کو پیش کرنے میں دیتا ہے۔
اسلام آباد ، لاہو ،کراچی ،سے چھو ٹے واقعات کی خبریں فوری طورپر بریکنگ نیوز بنا کر پیش کی جاتی ہیں۔جبکہ دیہات کے اہم مسئلوں میں سے پینے کا صاف پانی، صحت ، تعلیم ، خوراک ، جیسے بنیادی مسائل اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں جن کا ز کر رسمی طور پر خبروں کاآخری حصہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔صاحب مال لوگ ایسی خبر شا ئع ہونے پر نہ خوش ہوتے ہیں ۔ جن سے ان کی عزت میں کمی آئے اور ان کی ایسی چھوٹی بات کو زیادہ کالم میں شائع کیا جاتاہے تاکہ عزت میں مزید اضافہ ہو سکے۔جبکہ غربت سے مرنے والوں کی آواز صفحات کے آخری حصوں میں نظر آتی ہیں۔
سال میں چندخاص دنوں کے علاوہ آج ہمارے میڈیا پر بہت سے ٹاک شوز، حالات حاضرہ ، ہوں یا کو ئی دلچسی کے پروگرام جن کی زینت صاحب مال اور وی، ائی ، پی ہوتے ہیں ۔ اور دوسری طرف اپنے ملک کی کلچر سازی کرنے کے بجائے دوسروں کے کلچر سازی کا مواد لے کر پاکستانی عوام کو مختلف پروگراموں اور دلچسپ طریقوں سے کھلاتا ہے۔ایسے پروگرام،ڈرامے ہم دیکھ نہیں رہے ہو تے بلکہ دیکھائے جاتے ہیں ۔آج ہمار ا میڈیا خبروں کو بریکنگ نیوز بنا کر فوری طور پر پیش کرنے میں سر گرم ہے۔ کیاایسا کرنے سے لوگوں کے مسائل حل اور امن قائم ہو سکتا ہے اگر ہاں تو ایسا اب تک کیوں نہیں ہو سکا ؟
اس ملک کے عوام غربت ، فاقہ کشی کا شکار ہو کرجسم وجاں کا رشتہ قائم رکھنے سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں ۔اور میڈیا پر ہر ہر منٹ بعد جس طرح سے سامراجی برانڈکی پراڈکٹ بیچنے کے لئے زہن سازی کا عمل جاری ہے ۔جو مضر صحت ،مشروبات و دیگر ملاوٹ زدہ اشیاء کے نقصانات کو فوائد میں گنوانے کے لیے مصروف ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں جو دیکھایا جارہا ہے اس کا اثر ہم پر نہ پڑا ہوآج ہمارے گھروں میں پکوان سے لے کر باتھ سوپ تک ہر وہ چیز استعمال ہوتی ہے جس کی زہن سازی ٹی وی پر کی جاتی ہے ۔ (۲)
سب سے خطر ناک بات یہ ہے کہ ! ! یہ بات معلوم ہو نے کے باوجود کہ کسی بھی چیز کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے پہلے اس کی بنیاد وں کو مضبوط بنایا جائے۔آج ہمارا میڈیا حقیقی معنوں میںآزادی کا مقصد کلچر ، ثقافت ، رنگونسل ، کو یکساں حقوق اور معاشرے میں امن بھائی چارے کی فزاکو قائم کرنے کی خاص کو شش کرتے ہوئے نظر نہیں آرہا ۔ جبکہ میڈیا کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت یہ بتا رہا ہے کہ ہماری علمیت ، تربیت ، اور زندگیوں کے کسی نہ کسی حصے میں کوئی کمی ضروررہ گئی ہے جس سے یہ صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے کہ نسلی لسانی طور پر آپس میں نفرتے جنم لینے لگی ہیں جوکہ کسی بھی ملک کی جانی ، مالی ، معاشی ، اقتصادی ، اور تعلیمی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔
نسلی لسانی کی بنا پر نفرتوں کی مثالے ہم گلی محلوں سے با آسانی لے سکتے ہیں ۔ ہمارے میڈیا کو ایسی نفرتوں کو ختم کرنے ملک سے محبت کرنے کا جذبہ اور قومیت ، تہذیب ، و ثقافت ، پرستی میں غیر ضروری مرض کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا چا ہیے جس میں ملک و قوم کو ایک کرنے کے لیے یکطرفہ اور ایمانداری سے کام کرنا ہو گاتاکہ ایک عام آدمی کے دل میں میڈیا کے لیے اچھی سوچ پیدا ہو سکے۔حکومت ، عدلیہ ، انتطامیہ ، کے بعد صحافت کا چوتھا درجہ آتا ہے جس کا مقصد عوالناس کو سچ اور حقائق کے ساتھ روزانہ کی بنیاد و ں پر مواد پیش کرنا ہے جو کہ اپنی ایمانداری اور سچائی سے نا صرف اپنا بلکہ ملک و قوم میں ایک دوسرے کے دلوں میں محبت پیدا کرنے میں بھر پورکردار ادا کر سکتا ہے۔معاف کی جیئے اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والی نسلوں کے لیے بہت سارے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

سو شل میڈیااْمید کی کِرن حور خان

حور خان
رول نمبر: ۷۲
ایم۔اے (پریوئس)
ماس میڈیا دیپارٹمنٹ
 آرٹیکل

سو شل میڈیااْمید کی کِرن
سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو لوگوں کو اظہارِرائے تبادلہ خیال تصویر اور ویڈیو شئیر کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کی مقبو لیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔کئی مرتبہ نیوز چینلز بھی وہ معلومات ہم تک نہیں پہنچاتے جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ جا تی ہے جیسے کہ کشمیر اور برما کے حالات و واقعات ،قرآن و حدیث کی شئیرنگ اور عقیدے کی درستگی کا کام بھی کیا جا سکتا ہے۔تعلیم،تفریح اور معا شرے کو متحرک بنانے کے ساتھ ساتھ مشکل میں مدد کے امکان کا بھی سبب ہے سو شل میڈیا کی ایجاد اور اسکی طوفانی رفتارسے یہ بات واضع ہوگئی کہ دنیا اب گول نہیں رہی بلکہ چپٹی ہو گئی ہے۔ملکون اور براعظموں کے درمیان فاصلے برقرار نہیں رہے امریکی اسٹوروں پے بکنے والا سامان چین میں بنا یا جا رہا ہے شکاگو میں بیٹھ کے جہاز کی سیٹ کنفرم کر نے کے لئے آپ فون ملاتے ہیں تو جواب بھارت کے کسی شہر میں بنائے گئے کال سینٹر سے دیا جاتا ہے۔مختلف ویب سائیٹس آن لائن شا پنگ کے لئے بنائی گئیں جن میں سب سے ذیادہ مقبولیت دراز آن لائن شاپنگ ویب کو حاصل ہوئی جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھے ہر طرح کے آئٹمز تک رسائی حصل کر سکتے ہیں۔گھر گہرستی ہو یا تعلیم،دینی مسعلے ہوں یا دنیاوی، بزنس ہو یا نوکری ہر عنوان پے سوشل میڈیا کا بہترین کردار ہے کسی انسان کی خاصیتوں کو دنیا کے روبرو کرنااور شہرت کا حامل بننا بھی سوشل میڈیا ہی کی عنایت ہے
یہ میڈیا ہی کا فیض ہے کہ پاکستان کی کم و بیش ۵۹ فیصد خواتین اور لگ بھگ ایک سو پچانوے مرد بفضل تعالٰی شاعر،ادیب،دانشور اور خصوصاً کالم نویس ہیں یہ میڈیا ہی کا احسان ہے کہ یس نے ہر خاصو عام کو کالم نویس بنا ڈالا۔آج میں تقریباً ستانوے فیسد افراد انٹر نیٹ سے آشنا ہیں یا باقاعدہ طور سے اسکا استعمال کر تے ہیں اس ٹیکنالوجی کو روز بروز جدید بنایا جا رہا ہے دنوں میں ہی نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہر ایپلیکیشن میں کو ئی نہ کو ئی اپ ڈیٹ ملتی ہے یا ایکسپلورائزیشن ہو تی ہے۔ مختلف جگا ہوں پے سروے کرنے کے بعد یہ نتیجہ آیا ہے کہ یس دور کے نوجوان ہی نہیں بلکہ ٹینیجرز بھی نت نئے انداز کی ایپلیکیشنز استعمال کرنے کا شوق رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی طرح کا ہاٹ ٹاپک ہویا کوئی ضروری معلومات ہو اب کوئی بھی خبر صرف گھر کے بڑون تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ گھر کے بچّے بھی ہر خبر سے آشنا ہو تے ہیں اور یہ ایک پازیٹو سا ئین ہے۔ کیونکہ بچّوں میں خود اعتمادی بڑھ گئی ہے انکو بوقت معلومات ملتی رہتی ہیں کسی بھی طرح کے ڈسکشن میں بچّے بخوبی اپنی رائے پیش کرنے لگے ہیں اور یہ سب سو شل میڈیا کے بدولت ہے کہ آج کے بچّے ہر طرح کے حالات سے خود اوئیر ہو جاتے ہیں مختلف علاقوں اور شہروں میں بچّے اغوا ہونے کی جو صورتحال ہے یہ ابھی کا سب سے کر نٹ اِشو ہے میڈیا نے اس حوالے سے اتنا اپ ڈیٹ کر دیا ہے کہ بچّے خبردار ہو چکے ہیں اور بلا ضرورت گھروں سے نکلنا چھو ڑ چکے ہیں تو یہ ہے سو شل میڈیا کے ایکشن کا ری ایکشن کہ اب ایک بچّہ بھی سیلف ڈیفنس امپلیمینٹ کر رہا ہے۔
اسی طرح ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے بھی اپنے کام کا تقریباً بو جھ سو شل میڈیا اور ٹیکنا لو جی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے ایڈمیشنز آن لائن ہونے لگے ہیں رزلٹس آن لائن اناوْنس کر دئیے جا تے ہیں تمام طالبِعلموں کا بائیو ڈیٹا اور اکیڈمک کوالیفکیشن کا ریکارڈ اب کمپیوٹر میں سیف کیا جا تا ہے یہان تک کہ اسائنمنٹس کی سبمشن بھی آن لائن کی جانے لگی ہیں یو نیورسٹیز اور کا لجوں میں۔اب گیا وہ زمانہ جہاں طالبِ علم اپنے اسائنمنٹس پیپر فائل پے بنا کے اپنے اسا تذہ کو دیا کرتے تھے اب زمانے نے اپنا رخ بدل ڈالا اب ہر طالبِ علم کو( ایمیل اکاوئنٹ) درکار ہے جس کے ذریعے وہ اسائنمینٹس یا پروجیکٹس اپنے اساتذہ کو میل کرتے ہیں اور اساتذہ انکا رسپونس اسٹوڈنٹ بلاگ کے ذریعے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا نے حلات بدل ڈالے طور طریقے بدل ڈالے ہر چیز کو مزید آسان سے آسان تر بنا ڈالا تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا اْمید کی ایک کِرن ہے سوشل میڈیا نے مختلف پہلووں سے انسان کو فائدے پہنچائے ہیں اور آگے بھی یہ سلسلہ اسی طرح مقبولیت کے ساتھ جاری رہے گا اچھّی اْمیدوں اور کاوشوں کے ساتھ۔

پاکستانی فلمیں اور سینما گھروں کا رجحان - ثناء شیخ


ثناء شیخ
رول نمبر:۵۵
ایم۔اے (پریویس)
میڈیااینڈکمیونیکیشن
آرٹیکل:
پاکستانی فلمیں اور سینما گھروں کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
فلم تمام مواصلات کی تراکیب کی سب سے زیادہ طاقتورقسم ہے ۔جو انسان کی نفسیات پر گہرااثرچھوڑ جاتی ہے اوریہی گہرااثرمعاشرے پراثراندازہوتا ہے چاہے وہ ہالی وڈہو ،بالی وڈیالولی وڈکسی بھی ملک کی فلم انڈسٹری اس ملک کی ثقافت سے پوری دنیاکوروشناس کرواتی ہے اوریہیں سے ان کی ترقی کا پتہ بھی چلتا ہے کہ وہ کس طرح کا کلچرپروموٹ کررہی ہیںیا کرناچاہتی ہیں ۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور عروج کی بحث ہمارے ہاں کافی عرصے سے جاری ہے ۔اخبارات ہوںیاٹی وی کے پروگرام ہر جگہ ماہرین اپنی رائے کا اظہار کرتے نظرآتے ہیں 70's60's,50'sکی دہائی میں پاکستانی فلم انڈسٹری کا بامِ عروج کا دورتھا جہاں ایسی فلموں کے نام یادآتے ہیں جو اپنی کہانی ،اداکاری ،موسیقی ،گلوکاری اورہدایت کاری کے حوالے سے ناقابلِ فراموش ہیں جیسے کہ کوئل،نیند،فرنگی،آئینہ،سچائی ،انصاف اورقانون، ہیررانجھا ،امراؤجان ادا،خاموش رہووغیرہ ۔پھرہم نے (1988-2002)کا دوربھی دیکھا جہاں گھرکب آؤگے اورچوڑیاں جیسی فلموں نے بے پناہ شہرت حاصل کی ۔ایک اندازے کے مطابق 80کی دہائی میں ہمارے ملک میں سینما گھروں کی تعداد1100تھی جوکم ہوکر120رہہ گئی ہے ۔کسی دورمیں پاکستان مین سالانہ 100فلیمیں بڑے پردے کی رونق بنتی تھیں جن کی تعدادکم ہوکرآج چندرہہ گئی ہے۔پاکستانی فلمی سینمانے وہ وقت بھی دیکھاجب ایک بینرکے نیچے دس دس فلمیں چلتیں تھیں4158یکن بدقسمتی سے اورصرف بدقسمتی ہے کہ اب پاکستانی فلم انڈسٹری پچھلی چنددہائیوں سے بدترین زوال کا شکارہے۔جوکہ اب کچھ بہتری کی طرف آتی دکھائی دیتی ہے ۔
دراصل لوگ میعاری اورسستی تفریح چاہتے ہیں ۔غیرمعیاری اورعامیانہ فلموں نے لوگوں کو سینماگھروں سے دورکردیا اوررہی سہی کثرکیبل اور انٹرنیٹ نے پوری کردی (2002-2009)مشرف کے دورمیں انڈین فلموں کو سینماؤں کی زینت بنا کر لوگوں کو مغلِ اعظم جیسی پرانی اور عشقیہ فلموں کی طرف ایسا دوڑایا گیا کہ آخرکارسینماہالزآہستہ آہستہ خالی ہونے لگے۔انٹرنیٹ اورسوشل میڈیانے ایسے قدم جمائے کہ سینماگھرویران ہوگئے ۔گھربیٹھے لوگ ڈاؤن لوڈنگ اورآن لائن فلمیں دیکھنے لگے ۔اب اگرفلمی صنعت پر نظرڈالی جائے توبہت کوششوں کے بعدپاکستانی فلم انڈسٹری ایک بارپھر کامیابی کے سفرپر چل پڑی ہے۔یہی فلمسازی کو بہترین وقت ہے یہ دورنوجوانوں کا دورہے جواچھی سوچ کے ساتھ فلمیں بنارہے ہیں ۔ہمارے فنکاروں میں بھرپورصلاحتیں موجودہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فلمیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ان کی کامیابی نے دنیابھرمیں فلم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اورگذشتہ چندماہ کے دوران اس سلسلے میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سمیت دنیا بھرمیں موجودفلم کے شعبے سے وابستہ افراد نے پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کو اہم قراردیااوراس کی تعریف بھی کی۔
اگرحیدرآباداورکراچی جیسے سندھ کے بڑے شہروں کی بات کی جائے جہاں پاکستانی فلمیں اورلوگوں کا سینما گھروں کی طرف بڑھتاہوارجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری بتدریج ترقی کی جانب گامزن ہے جیسے کہ 70اور80کی دہائی میں تھی۔کراچی میں CinemexاورNueplexجیسے لاتعدادسینماگھرموجودہیں جبکہ حیدرآبادمیں سینما گھروں کی تعدادصرف تین (3)ہیں جن میں سینی موش ،شہاب اوربمبینو شامل ہیں۔بھارتی فلموں سے لطف اندوزہونے والی قوم آج پاکستانی فلمیں دیکھنے کو زیادہ فوقیت دے رہی ہے حال میں ریلیزہونے والی بِن روئے ،کراچی سے لاہور،نامعلوم افراد،جوانی پھرنہیں آنی اوررا نگ نمبرجیسی پاکستانی فلموں نے فلم انڈسٹری میں ایک نئی روح پھونک دی ہے ۔پاکستانی سینما گھربھی پاکستان فلموں کو پروموٹ کرنے میں اہم کرداراداکررہے ہیں ۔خداکے لئے،بول اورواریہ تین فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان میں ریکارڈبزنس کیا بلکہ ان فلموں کو انڈیااوردنیابھرمیں بھی بہت سراہا گیا ۔جس تیزی سے پاکستان میں فلمیں بن رہی ہیں لگتا ہے وہ وقت دورنہیں جب پاکستانی فلمی شائقین کا رجحان پھرسے اپنے ملک میں بننے والی فلموں کی طرف ہوجائے گا۔لوگ چاہے کسی بھی ملک یا طبقے سے تعلق رکھنے والے ہوں فارغ اوقات میں لطف اندوزہونے کیلئے سینماگھروں کی طرف رُخ کرتے ہیں اس لئے ملک کے تمام بڑے شہروں میں نئے اور جدیدٹیکنالوجی پر مبنی سینما گھروں کاقیام ہوناچاہئیے جویقیناًشائقین کو اپنی طرف راغب کرنے میں کافی حدتک مددگارثابت ہونگے ۔

دُرِشهوار مرزا ريڊيو حيدرآباد جي شعبـءِ موسيقيءَ ۾ خدمتون

دُرِشهوار مرزا
رول نمبر: 2K16-MMC-19
ڪلاس: ايم اي پريويس
فيچر  :ريڊيو حيدرآباد جي شعبـءِ موسيقيءَ ۾ خدمتون

       
          ريڊيو حيدرآباد جي شعبـءِ موسيقيءَ ۾ خدمتون
جڏهن بـ اوائلي ميڊيا جو لفظ سامهون ايندو تـ پرنٽ ميڊيا ۾ اخبار ۽ اليڪٽرانڪ ميڊيا ۾ سڀ کان اول ريڊيو جو نالو اڀري سامهون ايندو. ريڊيو مارڪونيءَ جي ايجاد آهي ۽ رڪارڊنگ مشين ايڊيسن جي ايجاد.. جنهن بلب ايجاد ڪيو هو. ان سڀ کان پهرين اِن مشين تي پنهنجو، ۽ پوءِ جارج برنارڊ شاھ ۽ لينن جو آواز بـ رڪارڊ ڪيو. گڏو گڏ 1940 ڌاري ٻي جنگ عظيم ۾ جپان جي شهرن هيرو شيما ۽ ناگاساڪيءَ تي جيڪي آئٽم بم اڇلايا ويا، انهن جي آواز بـ رڪارڊ ڪيو ويو.
ننڍي کنڊ ۾ يعني انڊو پاڪ ۾ ريڊيو براڊڪاسٽنگ جي ابتدا 1927 کان شروع ٿي ۽ ابتدا ۾ بمبئي، ڪلڪتي، ڍاڪا، لاهور ۽ پشاور وغيره ۾ ريڊيو اسٽيشنون قائم ٿيون، جيڪي براھراست Direct+)) نشريات ڪنديون هيون. 1902 کان ڪلڪتـ ۾ رڪارڊنگ مشينون آيون تـ، آواز بـ رڪارڊ ٿيڻ شروع ٿيا.
سنڌ صوبي ۾ اهڙي براڊڪاسٽنگ يا ريڊيو اسٽيشن 14هين آگسٽ 1948 تي شروع ٿي. بعد ۾ 17هين آگسٽ 1955 تي پڪي قلع لڳ، هومسٽيڊ هال ۾ ريڊيو حيدرآباد جو آغاز ٿيو، جتان سنڌيءِ ۾ راڳ رنگ جا پروگرام شروع ٿيا، ان لاءِ پهريون پهريون سنڌي پروڊيوسر، جيڪو مقرر ٿيو، اُن جو نالو هو ايم بي (محمد بخش لغاري) ۽ جيڪي سازنده ڪراچي مان حيدرآباد آيا، انهن جا نالا هئا ماسٽر محمد ابراهيم ۽ استاد محمد جمن، پوءِ اهڙن موسيقارن ۾ غلام نبي عبدالطيف ۽ موسيقار استاد نياز حسين ۽ فيروز گل جو نالو بـ شامل ٿيو.
ريڊيو حيدرآباد تان موسيقي جا پروگرام شروع ٿيا تـ، ريڊيو حيدرآباد، سنڌ جي درگاهن تي صُوفي راڳ ڳائيندڙ فنڪارن کي ريڊيو تان متعارف ڪرائڻ جو سلسلو شروع ڪيو. اهڙن فنڪارن ۾ فقير عيسيٰ درگاھ مخدوم نوح هالا تان آيو، فقير عبدالغفور درگاھ سچل سر مست تان، ڍول فقير درگاھ منٺار فقير تان آڻي متعارف ڪرايا ويا، پوءِ ريڊيو حيدرآباد جي شعبـءِ موسيقيءَ ڪوشش ڪري سنڌ جي شاعرن جي لکيل واين ۽ ڪافين کي ڳارائڻ جو سلسلو شروع ڪيو ۽ جن شاعرن جون ڪافيون، استاد محمد جمن، محمد ابراهيم شيلا مھتاڻي، حسين بخش خادم کان ڳارايون ويون انھن جا نالا ھئا.. مصري شاھ بيدل ۽ بيڪس فقير، روحل فقير، سچل سر مست، ۽ مخدوم طالب الموليٰ. واين ڳارائڻ جي سلسلي ۾ محترم روبينـ صاحب جون خدمتون حاصل ڪيون ويون. جنهن شاھ لطيف جي سورمين سسئي، مومل، نوري، سورٺ، ليلا، سھڻي ۽ مارئي بابت وايون ڳايون، تـ روبينـ صاحبـ نھايت مقبول فنڪاره بنجي وئي. گڏوگڏ مرد گلوڪارن ۾ ريڊيو حيدرآباد محمد يوسف، علڻ فقير، حسين بخش خادم سينگار علي سليم وحيد علي ۽ ان کان پوءِ ذوالفقار علي، مظهر حسين ۽ ٻين بـ لاتعداد فنڪارن کي متعارف ڪرائڻ جو سلسلو شروع ڪيو. جن وڏو نالو پيدا ڪيو ستر واري ڏهاڪي ۾ ريڊيو حيدرآباد ساري سنڌ ۾، شھر شھر ۽ ڳوٺ ڳوٺ وڃي، نوان آواز تلاش ڪيا ۽ انھن جا مقابلا ڪرايا، جن مان زرينـ بلوچ، زيب النساءِ، امينـ زينت صديقي ۽ عزيزه سومرو وغيره جھڙيون فنڪارائون سامهون ايون. 1967 ۾ ‘ڀالوا’ ۾ مارئي جو ٿر ۾ ميلو ٿيو تـ، ريڊيو حيدرآباد جا آفيسر اُتان ٻـ املهـ فنڪار چونڊي آيا. مائي ڀاڳي ۽ مراد فقير جن لوڪ گيت “چرمي” رڪارڊ ڪرايو ۽ گڏوگڏ مائي ڀاڳيءِ جي آواز ۾ کڙي نيم ڪي نيچي، تار منجھان ترندي اچي، ڀٽ جا ڀٽائي ۽ ٻيا بـ ڪئي      لوڪ گيت رڪارڊ ٿي نشر ٿيا، تـ بي حد مقبول ٿيا. ڪلاسيڪل انداز ۾ ڪافي ڪلام ڳائيندڙن ۾ استاد منظور علي خان، استاد گلزار علي خان جا ڪلام رڪارڊ ٿيا، زيب ميمڻ ۽ زرينـ بلوچ صاحبـ لوڪ گيتن سان گڏ ‘سھرا’ بـ پنهنجي آواز ۾ رڪارڊ ڪرايا ۽ ريڊيو حيدرآباد جي پروڊيوسرن ايم . بي لغاري، خواجـ امداد غلام حسين شيخ، محمد انور بلوچ جهانگير قريشيءِ، نصير مرزا وغيره اُهي رڪارڊ ڪري نشر ڪرايا تـ، سڄي سنڌ جي ماڻهن ۾ ڏاڍا مقبول ٿيا. خاص ڪري..
               مور ٿو ٽلي             زرينـ بلوچ
               پيرين پوندي سان       روبينـ 
               همرچو                  دين محمد شيخ ۽ زرينـ بلوچ
              ڇوٿي ڄڻيئي             زينت صديقي
              ھور وھيوڙي ھور     عزيزه سومرو
 1972 ۾ ريڊيو حيدرآباد جي شعبـءِ موسيقي عابده پروين صاحبـ کي متعارف ڪرايو جنهن نهايت جلد، ايترو شهرت ماڻي ورتي، جو هاڻي هُوءَ صوفي موسيقي جي آسمان جو جرڪندڙ سج بنجي چڪي آهي ۽ اڄ سندس شمار، مقامي ۽ قومي بدران، بين القوامي فنڪارائن ۾ ٿئي ٿو. گلوڪارن سان گڏ ريڊيو حيدرآباد شعبـءِ موسيقيءَ، مصري خان جماليءَ خميسي خان ۽ الھـ بچائي کوسي جھڙا الغوزه نواز متعارف ڪرايا. گڏوگڏ بوڙينڊا ساز تي مير محمد لنڊ، چنگ تي عبدالڪريم بلوچ، نڙ بيت تي ساجن چانگ، بينجو    تي بلاول بينجو نواز جھڙن فنڪارن کي پڻ متعارف ڪرايو ويو. ريڊيو حيدرآباد جي هن شعبي جي خدمتن جو سفر اڄ بـ جاري آهي جتان تازو اقرار وحيد علي، ضامن علي، امبر مهڪ، تاج مستاني، ديبا سحر ديبا ڪنول، ڪوثر مائي ۽ خاص ڪري صنم مارئي جهڙا فنڪار ۽ فنڪارائون متعارف ٿي چڪا آهن جن پنهنجي بنيادي اداري يعني ريڊيو حيدرآباد کان سواءِ سنڌ پاڪستان ۽ دنيا ۾ بـ پنهنجو نالو چمڪائي ڇڏيو آهي. تاج جويي هي سچ ئي تـ چيو آهي..
       ڏات جي ڏيھـ ۾، رات ٿيڻي نـ آ،
      گيت سنگيت جي، مات ٿيڻي نـ آ،