Showing posts with label حور خان. Show all posts
Showing posts with label حور خان. Show all posts

Monday, 22 August 2016

سو شل میڈیااْمید کی کِرن حور خان

حور خان
رول نمبر: ۷۲
ایم۔اے (پریوئس)
ماس میڈیا دیپارٹمنٹ
 آرٹیکل

سو شل میڈیااْمید کی کِرن
سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو لوگوں کو اظہارِرائے تبادلہ خیال تصویر اور ویڈیو شئیر کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کی مقبو لیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔کئی مرتبہ نیوز چینلز بھی وہ معلومات ہم تک نہیں پہنچاتے جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ جا تی ہے جیسے کہ کشمیر اور برما کے حالات و واقعات ،قرآن و حدیث کی شئیرنگ اور عقیدے کی درستگی کا کام بھی کیا جا سکتا ہے۔تعلیم،تفریح اور معا شرے کو متحرک بنانے کے ساتھ ساتھ مشکل میں مدد کے امکان کا بھی سبب ہے سو شل میڈیا کی ایجاد اور اسکی طوفانی رفتارسے یہ بات واضع ہوگئی کہ دنیا اب گول نہیں رہی بلکہ چپٹی ہو گئی ہے۔ملکون اور براعظموں کے درمیان فاصلے برقرار نہیں رہے امریکی اسٹوروں پے بکنے والا سامان چین میں بنا یا جا رہا ہے شکاگو میں بیٹھ کے جہاز کی سیٹ کنفرم کر نے کے لئے آپ فون ملاتے ہیں تو جواب بھارت کے کسی شہر میں بنائے گئے کال سینٹر سے دیا جاتا ہے۔مختلف ویب سائیٹس آن لائن شا پنگ کے لئے بنائی گئیں جن میں سب سے ذیادہ مقبولیت دراز آن لائن شاپنگ ویب کو حاصل ہوئی جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھے ہر طرح کے آئٹمز تک رسائی حصل کر سکتے ہیں۔گھر گہرستی ہو یا تعلیم،دینی مسعلے ہوں یا دنیاوی، بزنس ہو یا نوکری ہر عنوان پے سوشل میڈیا کا بہترین کردار ہے کسی انسان کی خاصیتوں کو دنیا کے روبرو کرنااور شہرت کا حامل بننا بھی سوشل میڈیا ہی کی عنایت ہے
یہ میڈیا ہی کا فیض ہے کہ پاکستان کی کم و بیش ۵۹ فیصد خواتین اور لگ بھگ ایک سو پچانوے مرد بفضل تعالٰی شاعر،ادیب،دانشور اور خصوصاً کالم نویس ہیں یہ میڈیا ہی کا احسان ہے کہ یس نے ہر خاصو عام کو کالم نویس بنا ڈالا۔آج میں تقریباً ستانوے فیسد افراد انٹر نیٹ سے آشنا ہیں یا باقاعدہ طور سے اسکا استعمال کر تے ہیں اس ٹیکنالوجی کو روز بروز جدید بنایا جا رہا ہے دنوں میں ہی نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہر ایپلیکیشن میں کو ئی نہ کو ئی اپ ڈیٹ ملتی ہے یا ایکسپلورائزیشن ہو تی ہے۔ مختلف جگا ہوں پے سروے کرنے کے بعد یہ نتیجہ آیا ہے کہ یس دور کے نوجوان ہی نہیں بلکہ ٹینیجرز بھی نت نئے انداز کی ایپلیکیشنز استعمال کرنے کا شوق رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی طرح کا ہاٹ ٹاپک ہویا کوئی ضروری معلومات ہو اب کوئی بھی خبر صرف گھر کے بڑون تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ گھر کے بچّے بھی ہر خبر سے آشنا ہو تے ہیں اور یہ ایک پازیٹو سا ئین ہے۔ کیونکہ بچّوں میں خود اعتمادی بڑھ گئی ہے انکو بوقت معلومات ملتی رہتی ہیں کسی بھی طرح کے ڈسکشن میں بچّے بخوبی اپنی رائے پیش کرنے لگے ہیں اور یہ سب سو شل میڈیا کے بدولت ہے کہ آج کے بچّے ہر طرح کے حالات سے خود اوئیر ہو جاتے ہیں مختلف علاقوں اور شہروں میں بچّے اغوا ہونے کی جو صورتحال ہے یہ ابھی کا سب سے کر نٹ اِشو ہے میڈیا نے اس حوالے سے اتنا اپ ڈیٹ کر دیا ہے کہ بچّے خبردار ہو چکے ہیں اور بلا ضرورت گھروں سے نکلنا چھو ڑ چکے ہیں تو یہ ہے سو شل میڈیا کے ایکشن کا ری ایکشن کہ اب ایک بچّہ بھی سیلف ڈیفنس امپلیمینٹ کر رہا ہے۔
اسی طرح ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے بھی اپنے کام کا تقریباً بو جھ سو شل میڈیا اور ٹیکنا لو جی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے ایڈمیشنز آن لائن ہونے لگے ہیں رزلٹس آن لائن اناوْنس کر دئیے جا تے ہیں تمام طالبِعلموں کا بائیو ڈیٹا اور اکیڈمک کوالیفکیشن کا ریکارڈ اب کمپیوٹر میں سیف کیا جا تا ہے یہان تک کہ اسائنمنٹس کی سبمشن بھی آن لائن کی جانے لگی ہیں یو نیورسٹیز اور کا لجوں میں۔اب گیا وہ زمانہ جہاں طالبِ علم اپنے اسائنمنٹس پیپر فائل پے بنا کے اپنے اسا تذہ کو دیا کرتے تھے اب زمانے نے اپنا رخ بدل ڈالا اب ہر طالبِ علم کو( ایمیل اکاوئنٹ) درکار ہے جس کے ذریعے وہ اسائنمینٹس یا پروجیکٹس اپنے اساتذہ کو میل کرتے ہیں اور اساتذہ انکا رسپونس اسٹوڈنٹ بلاگ کے ذریعے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا نے حلات بدل ڈالے طور طریقے بدل ڈالے ہر چیز کو مزید آسان سے آسان تر بنا ڈالا تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا اْمید کی ایک کِرن ہے سوشل میڈیا نے مختلف پہلووں سے انسان کو فائدے پہنچائے ہیں اور آگے بھی یہ سلسلہ اسی طرح مقبولیت کے ساتھ جاری رہے گا اچھّی اْمیدوں اور کاوشوں کے ساتھ۔

Friday, 19 August 2016

افضال شاہ گراؤنڈ



حور خان

ماس کمیونکیشن ڈیپارٹمینٹ
ایم ۔اے۔پریویس
رول نمبر:۔۷۲
فائیل:۔ فیچر
افضال شاہ گراؤنڈ
کھیل ایک ایسا شوق ہے جس سے کسی بھی طرح کا انسان لطف اندوز نا ہوا ہوایک نا ممکن سی بات ہے۔بچپن میں تو سبھی کھیلتے ہیں مگر کھیل کو اپنا پروفیشن بنانے والے لوگ کھیل کو صرف بچپن تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکے پچپن تک اسے لطف اٹھاتے ہیں. ہائے !!کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ایسے لوگ۔۔۔
افضال شاہ گراونڈ ایک اسپورٹس وینیو اور اسٹیڈیم جو لطیف آباد یونٹ نمبر:۰۱ میں واقع ہے ۔افضال گراونڈ ایک بہترین کریکٹر افضال شاہ کے نام پے بنا یا گیا۔جو ۵۲ستمبر ۴۵۹۱ میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے بہت کم عمر سے کرکٹ کھیلنے کے شوق سے وابسطہ افضال شاہ نے بہت جلد ہی اپنے بہترین کھیل کے ذریعے ترقی اور شہرت حاصل کی وہ ایک رائٹ ہینڈ بیٹس مین تھے اور فیلڈنگ پوزیشن ویکٹ کیپر تھی۔وہ ایک نہایت انسا نیت پسند انسان ہیں اور سننے میں آیا ہے کہ آجکل شدید بیماری میں مبطلہ ہیں۔چونکہ وہ خود ایک کھیل سے وابسطہ انسان ہیں تو اسی لئے انہوں نے حیدرآباد کے کھلاڑیوں کے لئے یہ گراونڈ بنوایا اور بہت ہی کم وقت میں اس معمولی گراونڈ میں بہت سی دلچسپ تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں کچھ عرصے پہلے تک یہ گراونڈ خا صا معمولی سا تھامٹیالی زمین کھردورا فرش اور بغیرکسی باونڈری کے واقع تھاجس کی وجہ سے کچھ قبضہ گروپ نے اسکا فائدہ اٹھایا اور بڑی تصلی کے ساتھ گراونڈ کی کچھ فیصد جگہ پے چھو ٹی چھوٹی جھگیاں ڈال لیں جہاں رات رات بھر تاش کھیلے جاتے اور غیر اخلاقیاتی کام کئیے جانے لگے تھے شاہ صاحب کی سخت قانونی کاروائیوں کے بعدآخرکار ان لوگوں کو وہاں سے نکال دیا گیااور پھر گراونڈ میں مزید ترقیاتی کام کی شروعات کی گئی۔
مضبوط سریا استعمال کرکے باونڈریز بنائی گئیں وہاں کے کچیّ مٹیالے فرش پے گھا نس اگائی گئیں اور گراونڈ کے چار وں طرف سیٹیں لگائی گئیں اور ایک پچ بنائی گئی گراونڈ کو مکمل طور پے ایک اسٹیڈیم کی شکل دے دی گئی یہاں کرکٹ کے بڑے ٹارنامینٹس بھی ہوتے ہیں اسکولوں کالجوں کے سپورٹس ڈے بھی منعقد کئے جاتے ہیں گراونڈ میں ایک انڈور ایریہ بھی بنا یا گیا ہے جہاں گرلز اسپورٹس ہو تے ہیں بیڈمینٹن اور ٹیبل ٹینس جیسے انڈور گیمز کھیلے جا تے ہیں اور سب سے بہترین بات یہ ہے کہ عام لوگوں کی چہل قدمی کے لئے واکنگ ٹریک بھی بنایا گیا ہے صبح سویرے بوڑھے اور نوجوان وہاں چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور شام میں بچوّں کی بڑی تعداد وہاں کرکٹ فٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھنے کو ملتی ہے اور خواتین بھی اپنے دل و دماغ کو ترو تازہ کرنے وہاں موجود ہوتی ہیں مختلف کھا نے پینے کی چٹپٹی چیزوں کے ٹھئے وہاں ہوتے ہیں اندھیرا ہوتے ہی جگمگاتی ہوئی سرچ لائٹس کی روشنی ہری ہری گھانس پے پڑتی ہوئی کافی سکون بخشتی ہے۔کوئی بھی قومی یا مذہبی تہوار اس گراونڈ کی رنگینیوں چار چاند لگا دیتا ہے۔بسنت کو بھرپور طریقے سے اسی گراونڈ میں منایا جاتا ہے۔چودہ اگست پے بھی لوگ یہاں آتش بازیاں کرکے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔رمضان میں تراویح کے لئے استعمال کیا جا تا ہے اور عید گاہ بھی بنا ئی جاتی ہے عید کی نماز کے فوراً بعد گراونڈ میں ایک میلا لگ جا تا ہے جہاں کھا نے پینے کی چیزیں مختلف کھیل اور جھولے وغیرہ ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے بچیّ اپنے دوستوں کے ہمراہ آتے اور عید کی خو شیاں مناتے نظر آتے ایک شور شرابہ رونق یہ ساری چیزیں بڑا پیارا سا احساس جگا تی ہیں۔اسی طرح بڑی عید پے یہ گراونڈ قربا نی کے جانور باندھنے کے کام آتا ہے اور ان دنوں بھی یہ گراونڈ بڑی رونق کا محور بنا ہو تا ہے کچھ لوگ جانور خریدنے کی غرض سے وہاں موجود ہوتے ہیں تو کچھ لوگ بس جانوروں کو دیکھنے کے شوق میں وہاں مو جود ہوتے ہیں بلکہ یہی نہی اس گراونڈ کے سب سے مہنگے ترین جانور کے جلووں کو دیکھنے دور دور سے لوگ آتے ہیں کچھ لوگ اپنے اپنے جانوروں کی ریس لگواتے ہیں تو کچھ لوگ اپنے خوبصورت اور وزندار جانوروں کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں اور یہی سلسلہ چاند رات تک چلتا رہتاہے اور پھر عید کی نماز کے بعد وہ سب جانور اسی گراونڈ میں ضبح کئیے جاتے ہیں۔
وہ نچلے طبقے کے لوگ جو کہ عالیشان اور مہنگے ریسٹارینٹس یا جگاہوں پے نہیں جا سکتیووہ کسی بھی تہوار پے یس گراونڈ میں لگے میلے اور اسکی رنگینیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اپنے بچوں کو خوش کرتے ہیں۔کھلاتے پلاتے ہیں اپنی چادر کت مطابق پیر پھیلاتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت اپنے بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہر خوشی ان کے لئے بھی ہے۔افضال گراونڈ ۰۱نمبر کے رہائشیوں کے لئے نہ صرف بطور پلے گراونڈ بلکہ ایک بہترین تفریح گاہ بھی ہیگراونڈ کی شہرت کی وجہ سے حیدرآباد لطیف آباد نمبر ۰۱ کا ایک واحد لینڈمارک ہے۔خاص طر سے بروز جمعہ اس گراونڈ میں انتہائی لوگوں اور بچوں کا ہجوم ہوتا ہے کیونکہ جمعہ کو وہاں لازمی کرکٹ میچ ہوتا ہے۔ چونکہ یہ گراونڈ کافی حد تک وسیع ہے توکرکٹ کے ساتھ ساتھ ایک طرف فٹ بال تو دوسری طرف بیڈمینٹن اور اسی طرح کے مختلف آوٹ ڈور گیمز کھیلے جا تے ہیں ایک ہی وقت میں۔تو یہ بات تہ ہے کہ گراونڈ کو کبھی بھی خالی نہیں پایا گیا۔حال ہی میں افضال گراونڈ میں۴۱یگست کے توسّس سے ایک فنکشن منعقد کیا گیا تھاجس میں بچیّ اور بڑے سب کے لئے مختلف طرح کے مقا بلے رکھے گئے تھے جیسے کہ مضمون رائٹنگ کے مقابلے ملی نغمے کے مقابلے تحر یک پاکستان پے تقریروں کا مقابلہ اور پاکستان آرمی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
افضال شاہ جیسی سوچ ہر قابل انسان کو رکھنی چاہیئے جس طرح سے انہوں نے یہ گراونڈ بنا کے ایک عظیم شہری ہونے کا ثبوت دیا ہے ان کی یہ ایک نیکی بہت سے لوگوں کو خوشی فراہم کر رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی اسی طرح اور دوسرے شہریوں کو بھی ان سے سبق حاصل کرنا چا ہئے کہ کوئی بڑی امداد نہ سہی اپنی کسی معمولی سی کو شش سے ہی اپنے معاشرے یا پھرعلاقے والوں کے لئے امداد کریں تا کہ افضال شاہ صاحب کی طرح ان لوگوں کو بھی اچھّے الفاظوں میں یاد کیا جائے۔۔

Wednesday, 10 August 2016

Profile of Inaya Fatima by Hoor Khan

do not insert foto in text file. send it separately. Make more informative, interesting. When her first poetry was published  what were comments of her friends etc. Subjects, style, approach of her poetry...

حور خان 
رول نمبر: ۷۲
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن 
پروفائیل:۔
شاعرہ عنایا پرویز
آپ کا تعلق خیرپورشہرسے ہے 1971میں آپ ایک ادبی گھرانے میں پیداہوئیں اورآپ ایک بہترین سخنوارانہ شاعرہ ہیں آپ اک ادبی اصولوں سے وابسطہ گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں آپ نے بہت ہی کم عمری میں اپنی شاعری کا آغازکیا تھا ۔ آپ کے آباو اجدادسے یا یوں کہہ لیں کہ آپ میں شاعری کا ہنروراثتی ہے ۔آپ نے اپنی شروعاتی تعلیم خیرپورکے ہی اک سرکاری اسکول سے حاصل کی ۔اپنی سیکنڈری تعلیم کے دوران ہی اپنے والد صاحب جو کہ بخودایک شاعر تھے ان سے اردو اَدب کی تعلیم لینی شروع کردی تھی۔
آپ اپنے بچپن سے ہی بے حد حسّاس طبیعت کی مالک رہی ہیں مختلف چیزوں پے سوچنا ،غورکرنااور پھر ان باریکیوں کو اپنے لفظوں کے موتیوں میں پرونا آپ کی عادت رہی ہے آپ کی توجہ کا مرکزہمیشہ موسمات اور قدرتی رنگینیاں رہی ہیں ۔کسی مخصوص شخصیت یا دنیاوی معاملات سے ہٹ کرآپ نے صرف قدرت کے رنگوں کو اپنی شاعری میں ڈھالنا پسندکیا ہے۔
آپ نے اپنی شاعری کومزید پرزوراورمعیاری کرنے کے لئے کالج اور یونیورسٹی میں منعقدہونے والے مشاعرے اور بیت بازیوں میں حصہ لیااوراپنی شاعری کے بہترین معیار اوراندازِ بیان کی بدولت اپنے اساتذہ کرام کو بخوبی دل جیتا۔اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔اپنی شاعری کے بہترین معیاراوراخلاقی لفظ نگاری کی وجہ سے مختلف قومی تقریبات میں آپ سے نظمیں ،غزلیں اورتقاریرکروائی جاتی تھی۔
اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے فوراً بعدہی آپ نے Radio(ریڈیو)پرایک ادبی پروگرام بزمِ ادب میں کام کرنا شروع کردیا۔جہاں آپ نے اپنی شاعری کو پروان چڑھایااوریہی پروگرام آپ کی کامیابی کی پہلی سیڑھی بنا۔
1991ءمیں آپ رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں ۔آپ کے شوہر پرویز شاہ جو کہ خیرپور کے کسی سرکاری کالج میں مضمون کیمیاءکے پروفیسر ہیں خدانے آپ کو ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے نوازا۔بیٹا انجینئر نگ کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے اوربیٹی بھی زیرِ تعلیم ہے۔آپ کا کہنا ہے کہ آپ نے کبھی اپنے بچوں کو زورنہیں دیا کہ وہ ابھی ان کی طرح ایک سخنوارانہ شاعری کا شوق رکھیں۔
عنایاپرویزکا کہنا ہے کہ شاعری ایک ذوق ہے ایک احساس ہے آپ کی نظرمیں وہ دل بنجر ہے کہ جس میں شاعری کرنے اوراس کی باریکیوں کو سمجھنے کا ہنر نہیں ۔اتنی عمرگزرجانے کے بعدبھی آپ میں شاعری کرنے کا جنون عروج پر ہے حال ہی میں آپ ایک کتاب لکھ رہی ہیں جس کا نام ”ذوقِ زندگی“ہے عنایا پرویز کا کہنا ہے کہ شاعری آپ کی رگوں میں خون کی روانگی کی مانندہے جسے چاہ کربھی نہیں روکا جاسکتا۔