Showing posts with label Literature. Show all posts
Showing posts with label Literature. Show all posts

Monday, 22 August 2016

تزمین رحمان پروفائل

This is not profile. Its article. How u term it as profile?

تزمین رحمان

پروفائل : ایم -اے پرائیوٹ
13 رول نمبر:

 حیدرآبا د کا ادبی ماحول
ادب کسی بھی زبان کسی بھی قوم اور کسی بھی خط زمین کا وہ سرمایہ ہوتا ہے جس میں متعلقہ زبان و ادب کے ار تقاکی کہانی، مزاج و ماحول کے بڑھنے اور بدلنے کا عمل اور فکرو نظریہ کی ترویج کا سامان اسطرح محفوظ کیا جاتا ہے اس میں روج عصر کا عکس جھلکتا ہوا محسوس ہو اس لیئے ادب کو زبان کی اساس اور فکری و تہذیبی ارتقاکا ترجمان بھی کہا جاتا ہے مادی و اقتصادی اورتنکی ترقی اگر کسی قوم کی خوشحالی کی کہانی بیان کرنے کا سبب قرار دی جا سکتی ہے تو ادب کو فکری ، ذہنی ، نظری اور روحانی ارتقا کی تمشیلی داستان کہا جاسکتا ہے بلکہ بُرا ادب تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں نظریات کے ساتھ ساتھ مادی انقلابات سماجی رجحانات اور اُن سے پیدا ہونے والی صورتے حال کا بیان ہو اس لیئے کے ادب کا مرکز انسان ہے اور دنیا کی عام ترقیات کا محور بھی انسان ہی ہے ۔
ان حوالوں سے جب ہم حیدرآباد کی ادبی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم یہاں کے ادب میں ان تمام تقاضوں کو بڑی حد تک پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے تجارتی ، اقتصادی، زرعی اور سیاسی نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے اس قدر اہمیت رکھنے والے اس شہر میں تخلیق ہونے والا ادب ان تمام خصوصیات کی عکسی تصویر بن کر ابھرا ہے ۔
تشکیل پاکستان کی صور ت حال ادب کے حوالے سے زیادہ مفید اور حوصلہ افزا رخ اختیار کر گئی تقسیم کی رد عمل کے طور پر لکھنے والوں نے جو تبد یلیاں محسوس کیں ان کا اثر تخلیق ہونے والا ادب پر بھی گہرا پڑا تارکین وطن کی زیادہ تر کھپت سندھ میں ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر ادبی ہنگاموں اور تخلیق عمل کا مضبوط اور قابلِ ذکر مرکز بن گیا۔
تقسیم سے قبل جو تنظیمیں ترویح ادب کیلئے کام کر رہی تھیں وہ تو بہر حال اپنا کردار نباہ رہی تھیں لیکن کچھ اور تنطیمیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ قیام عمل میں آئیں ان میں کچھ تنظیمیں درج ذیل ہیں۔
بزمِ خلیل:-
یہ بزم۱۹۴۸ میں قائم ہوئی اس کے بانی ڈاکٹر شیخ محمد ابراھیم خلیل تھے اور انہی کے نام سے یہ بزم رکھی گئی اس تنظیم کے تحت فارسی ، سندھی اور اردو مشاعروں کا آغاز ہوا۔۲نومبر ۱۹۸۲ کو ڈاکٹر شیخ محمد ابراھیم خلیل کے وفات پانے کے ساتھ ہی بزم خلیل ختم ہو گئی ۔
بز مِ معیار سخن:-
بزم معیار سخن ۱۴ اگست ۱۹۵۱ میں قائم ہوئی نمایاں عہددار میں نگراں :- پیرایرانی صاحب ، صدر :-سید محمد صادق صادق علی صادق دہلوی صاحب ، معتمر:- شفیع اللہ خان برگ یوسفی۔اس تنظیم میں شروع سے طرحی مشاعروں کو اہمیت دی ہے پیرایرانی صاحب کے زیر سرپرستی نکلنے والے رسالے "المصطفے"میں ہرمہینہ ان مشاعروں کی رو داد اور اگلے شاعروں کا اعلان شائع ہوا کرتا تھا۔
بزمِ صادق-:
بزم صادق کا قیام ۱۹۵۲ میں عمل میں آیا سرپرست سید صادق علی صادق دہلوی ، صدر-: اجمل حسین ، نائب صدر شبنمبدایونی۔کار کردگی کے لحاظ سے یہ تنظیم طرحی مشاعروں کی حد تک محدود رہی غیر طرحی مشاعر ے کرنا اس بزم کا شعار نہیں دیا ۔
یاد گار مشاعرہ کمیٹی :-
یہ مشاعرہ کمیٹی کمشنر حیدرآباد مرحوم نیاز احمد ، جناب مرزا عابد عباس اور جناب حمایت علی شاعر صاحب جیسی ہستیوں کی کوششوں سے ۱۹۵۹ میں قائم ہوئی آٹھ سال تک پابندی سے مشاعرہ منعقد کرتی رہی لیکن پھر یہ سلسلہ بند ہوگیا لیکن اس کا بند ہو جانا سب ہی نے محسوس کیا آخر احساس کے زندہ رہنے کی وجہ سے چند ہستیوں کے تعاون اور اشتراک سے ۱۹۸۱ میں ان مشاعروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا یہ مشاعرے شروع ہی سے سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتے تھے اور اب تک ہور رہے ہیں ان مشاعروں میں نہ صرف پورے پاکستان کے نمائندے اور صفِ اول کے شعرا شریک ہوتے ہیں بلکہ حالات سازگار ہونے پر ہندوستان کے شعر ا کو بھی دعوت سخن دی جاتی ہے ۔
اناں جمن ( اربی و ثقافتی ادارہٌ):-
۱۹۶ میں اسکا قیام عمل میں آیا صدر-:خالد وہاب نائب صدر-:کو کب جمیل ، جنرل سیکریٹری : ارشد رضا ہیں۔اس انجمن کے تحت باقائدگی کے ساتھ ہر ہفتہ روزنامہ "بشارت کے دفتر میں تنفیدی نشت ہو ا کرتی تھی اس کے علاوہ شام افسانہ ، یومِ منٹو ، اور ادیب اور قومی مسائل کے عنوان سے ایک میوزیم بھی منعقد ہوا اس میوزیم کی صورت حال ڈاکٹر رضی الدین نے کی تھی اور مہمان خصوصی فیض احمد فیض تھے احمد ندیم قاسمی نے بھی اس میوزیم میں اپنا مقالہ پیش کیا تھا۔
مکتبہ آگہی :-
ڈاکٹر احمد بشیر ، ڈاکٹر احسن فاروقی ، ڈاکٹر الیاس عشقی ، ڈاکٹر مبارک علی خان، جناب عطالرحمن ، ڈاکٹر حسن منظر کے علاوہ شہر کی اور اہم شخصیات ۱۹۶ سے دیا ل داس قلب میں حیدرآباد میں شام کے وقت ہفتہ میں ایک بار ضرور مل بیٹھنے اور گفت و شنیو کے ذریعہ ترسیل علم اور حصولِ علم کا اہتمام ضرور کیا کرتے تھے یہی بیٹھک آگے چل کر مکتبہ آگہی کے نام سے یاد کی جانے لگی۔
بزمِ فروغ ادب:-
۱۹۶۵ میں فروغ ادب حیدرآباد کا قیام عمل میں آیا اس کی کار کر دگی میں نہ صرف طرحی اور غیر طرحی مشاعر ے شامل ہیں بلکہ وقتاَ فوقتا منا عتوں اور محفل مسالموں کے انعقاد کے علاوہ تنقیدی نشستیں ، تغر یتی جلسے اور خاص موقعوں پر خاص پرو گرام شامل ہیں۔
جلیسانِ ادب :-
جلیسانِ ادب کا قیام ۱۹۷۸ میں ان حاضرات کی سرکر دگی میں عمل میں آیا صدر پر و فیسر حبیب ارشد، معقمد عمومی : قمر مشتاق ، معقد نشرواشاعت :عتیق جیلانی یہ نتظیم اپنی کار کردگی کے اعتبار سے نمایاں حیثیت رکھتی ہے اور متنوع پروگراموں کا انعقاد اس کاز یورہے مشاعروں ، کتابوں کی تعارفی تقاریب اہم ادبی شخصیات کے اعزاز میں تستوں کا اتعقاد اس کی کارکردگی میں شامل ہیں وہ تنطیمیں جن کا احوال بیان نہیں کیا جا سکا ان کے نام یہ ہیں۔بزمِ غزل (۱۹۶۲)
بزمِ عرفان (۱۹۶۲)
کاروانِ ادب (۱۹۶۴)
بزمِ غالب (۱۹۶۴)
بزمِ شعرو ادب (۱۹۶۵)
بزمِ تخلیق (۱۹۶۸)
خیابانِ ادب (۱۹۷۵)
مجلس اقبال (۱۹۷۶)
شعاعِِ ادب (۱۹۷۹)
ایوانِ ادب (۱۹۸۰)
محفلِ ادب (۱۹۸۲)
انجمنِ صرف (۱۹۸۳)
۱۹۸۳ تک وجود میں آنے والی ادبی تنظیمیں اور ان کی کارکردگی کا ایک جائزہ نظر نواز ہوا۔ اب ۱۹۸۳ کے بعد سے اب تک کی کچھ تنظیموں کا ذکر اجمالاً بیان ہوتا ہے ۔
رابطہ :۔
اس ادبی تنظیم کے کرتا دھرتا جناب امین الدین جالندھری ہیں۔ باقی لوگ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس ادبی تنظیم نے ذیادہ تر تنقیدی نشستیں بلا تعطل جاری ہیں ۔ جو عشرت علی خان کے گھر پر منعقد ہوتی ہیں۔تنقیدی نشستوں کے علاوہ کتابوں کی تقاریب رو نمائی شخصیات کے ساتھ شامیں منانے کے علاوہ کتابوں کی اشاعتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
زینہ:۔
ساجد رضوی اور پروفیسر مرزا سلیم کی کوششوں سے کئی خوبصورت اور یادگار ادبی تقارعب اس شہر کو دیں، لیکن یہ تنظیم چند زینے چڑھنے کے بعد اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اس وقت غیر متحرک ہے۔
ستارے :۔
شاکر جمال اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے گاہے بہ گاہے مختلف المنوع ادبی پروگراموں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں ۔ اپنی سست رفتاری کے ساتھ یہ تنظیم زندہ ہے۔شمع ادب :۔
نیر صدیقی اس تنظیم کے روح و رواں ہیں ۔یہ تنظیم سوتی جاگتی کیفیت میں رہتی ہے۔ جب دل چاہا کوئی مشاعرہ یا ادبی ایوارڈ سے ادبی شخصیات کو نوازدیا اس کے بعد پھر لمبی نیند۔
سرمایا شعر و ادب:۔
ایک طرح سے عباس علی عباس علی عباس کی یہ ادبی بیٹھک ہے جو وہ مہینوں ، برسوں میں اپنے گھر پر سجا لیتے ہیں ۔
بزمِ اخبار قابل: -
شاہد نظامی پانچ سات شاعروں کے ٹولے کو لیکر شعری نشست اپنے گھر پر جب جی چاہتا ہے رکھ لیتے ہیں ۔پرانی تنظیموں میں سے بزم فروغِ ادب ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنے قیام لے لے کر اب تک تو اثر کے ساتھ مشاعروں اور تعزیتی اجلاس کا انعقاد کر رہی ہے۔
موجودہ ادبی صورتحال: -
حیدر آباد کی موجودہ ادبی صورتحال ماضی کے مقابلے کی طرح بھی خوش کن نہیں ہے ۔ اچھے نثر نگاروں خاص طور پر اضانوی ادب کے لحاظ سے تو یہ شہر بنجر ہے۔ دور دور تک کوئی بڑا نام نظر نہیں آتا ۔ ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں عبدالقادر جو نیجو اور نور الہد اشاہ کے حیدر آباد کے نام کو ملکی سطح تک پہنچایا تھا ۔ کچھ عرصے سے یہ دو نام بھی گمشدہ ہوگئے ہیں ۔ البتہ مشاعروں کی ایک فوج اس شہر کی شعری اور ادبی محفلوں کو رونق بخشے ہوئے ہے ۔ لیکن عام آدمی کے لیئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کتنے حقیقی شاعر ہیں اور کتنے محض دکھاوے کے شاعر ہیں شاعری میں بھی ایک نام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچایا جاتا ہے اور وہ ہے پروفیسر عنایت علی خاں لیکن ان کی شہرت بھی مزاحیہ شاعری کی ہے ۔گاہے گاہے کچھ ادبی تنظیمیں رو کھے پھیکے ادبی پروگرام منعقد کرلیتی ہیں کچھ ادبی روق رکھنے والوں کے لیئے کچھ دیر کے لئے ادبی روق کا ساماں فراہم کردیتی ہیں ۔ اس کے بعد مستقل سناٹا ہے۔
اس کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں ۔ ادبی مطالعہ اب لوگوں کیلئے اپنی کشش کھو چکا ہے ۔ تربیت کرنے والے اور خود سے آگے بڑھ کر سیکھنے والے اپنے اپنے دائرے میں قید ہیں ۔ حیدر آباد کو کراچی شروع ہی سے نگل رہا ہے ۔ اس سے بھی حیدر آباد کی ادبی فضا کو نقصان ہوا ہے ۔ جو بڑا نام دنیا سے رخصت ہوا ہے ۔ اس کی جگہ لینے دوسرا نہیں آیا ۔ جو دنیا میں آیا ہے ۔ اسے ایک دن جانا ہے ۔ یہ قدرتی عمل ہے ۔ اس پر کسی کا اختیار نہیں ۔ مگر جانے ایسا ہی سناٹا پھیلتا ہے جو آج حیدر آبادکے ادبی ماحول پر چھایا ہوا ہے ۔ وقت کے سفرمیں ایسادوار بھی آتے رہے ہیں ۔ ہمیں اچھے کی امید کو چھوڑنا نہیں چاہئے ۔

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر ؔ
غم نہ کر عمر پڑی ہے ابھی

حيدرآباد جا ادبي ڪتاب گھر ۽ انهن جا خريدار :رشيد احمد نظاماڻي

 Rasheed Nizamani    
فيچر:
حيدرآباد جا ادبي ڪتاب گھر ۽ انهن جا خريدار
لکندڙ:رشيد احمد نظاماڻي
ڪلاس:ايم.اي پريويس
رول نمبر:49
گڏيل هندوستان جي گھڻ رُخي شخصيت ابوُالڪلام آزاد پنهنجي جڳ مشهور تصنيف “غبارِ خاطر” ۾ هڪ هنڌ لکيو آهي ته هن جي لاءِ زندگي جي سڀ کان وڏي عياشي اها آهي ته سياري جي تيز ٿڌي رات ۾ باهه جو مچ ٻرندو هجي ۽ هو ڪتاب پڙهندو هجي يا ڪجهه لکندو هجي.سنڌ جي ڪنهن شاعر ڪيڏو نه خُوب چيو آهي ته:
ڪتابن سان دل منهنجي ، ڪُتب خانا وطن منهنجو،
ڪتابن ۾ ٿيندس دفن مان،ورق ٿيندا ڪفن منهنجو.
ڪتابن جي عشق ۾ ورتل اهڙن ماڻهن کي من ۾ هميشه اها تات هوندي آهي ته هو نوان ۽ پراڻا،مطلب ته هر اهو ڪتاب پڙهن جيڪو انهن جو پڙهيل نه هجي.ان ڪري هو هميشه اهڙين جاين جي تلاش ۾ رهندا آهن جتي انهن کي ڪتاب ملي سگھن.
اهڙن پڙهندڙن مان هر ڪنهن جي پسند  مخلتلف هوندي آهي،ڪو ناول ۽ ڪهاڻيون پسند ڪري ٿو ته ڪوئي شاعري.ڪو زندگي جي رمزن ۾ اُلجهڻ لاءِ فلسفو پڙهي ٿو ته ڪوئي ماضي جي ڳولها ۾ تاريخ پڙهڻ پسند ڪري ٿو.ڪي پاڻ سنوارڻ لاءِ دنيا جي عظيم شخصيتن جو جيون ڪٿائون پڙهن ٿا ته ڪي وري دنيا کي گھمڻ لاءِ سفر نامن جو سهارو وٺن ٿا.
ڪتابن سان چاه رکندڙ اهڙا ماڻهو جن کي حيدرآباد ويجهو پوي ٿو انهن کي ٻڌائيندو هلان ته حيدرآباد جو علائقو حيدر چوڪ،ادبي ڪتاب گھرن جو مرڪز آهي جتي ادبي ڪتابن جي 8 دڪانن کان علاوه ٽي ريڙهي وارا به آهن جيڪي ادبي ڪتاب وڪرو ڪن ٿا.
مون جڏهن پنهنجي اسائنمينٽ خاطر انهن سان ملاقات ڪئي ۽ انهن کان انهن جا مسئلا،پڙهندڙن جي پسند ۽ ڪتابن جي وڪري وغيره بابت ڳالهه ٻولهه ڪئي ته تمام دلچسپ معلومات ملي.سڀ کان پهريان آئون ريڙهي تي ڪتاب وڪرو ڪندڙن سان مليس جيڪي حيدر چوڪ کان گول بلدنگ طرف ويندڙ روڊ جي موڙ ۾ ويٺل آهن.اتي ڪتاب وڪرو ڪندڙ جنهن پهرين شخص سان ڳالهه ٿي ته ان ٻڌايو ته هو موسيٰ پبليڪيشن جو ڌڻي آهي جنهن جا 28 ڪتاب شايع ٿي چڪا آهن هن پنهنجو نالو حبدار گاڏهي ٻڌايو.هن ٻڌايو ته هو 20 سالن کان وٺي حيدر چوڪ تي ڪتاب وڪرو ڪري رهيو آهي پر ڪتابن جي وڪري ۽ پبليڪيشن مان ڪجهه گھڻو پلئـه نه پيو آهي اهو  ئي سبب آهي جو هو اڃا تائين هڪ ريڙهي کان دڪان تائين نه پهچي سگھيو آهي.هن چيو ته جيڪڏهن گورنمينٽ تعاون ڪري ته اسان جي معاشي حالت ڪجهه بهتر ٿي وڃي.
اتان پوءِ ويجهو ئي حيدر چوڪ کان اولڊ ڪيمپس ويندڙ روڊ تي ٺهيل هڪ مارڪيٽ جي اندر ڪويتا پبليڪيشن جو ننڍو ڪتاب گھر آهي، جنهن جو مالڪ موهن مدهوش آهي جيڪو 16 سالن کان وٺي هي پبليڪيشن هلائي رهيو آهي. موهن مدهوش ٻڌايو ته اڳ جي ڀيٽ ۾ هاڻ وڪرو گھٽجي ويو آهي.باقي جينيئن ريڊرس (اڳوڻن پڙهندڙن) اڃا پڙهڻ ڪون ڇڏيو آهي.هن چيو ته جيترو به وڪرو ٿئي ٿو ان ۾ سفر ناما خاص طور الطاف شيخ جا سفر ناما گھڻو وڪرو ٿين ٿا،ان کان پوءِ ناول ۽ پوءِ آتم ڪٿا جا ڪتاب وڪرو ٿين ٿا.هن وڌيڪ چيو ته اسان سڀني،خاص طور نوجوانن کي ادبي ڪتاب ضرور پڙهڻ گھرجن ڇاڪاڻ ته ان کانسواءِ اسان مضبوط نٿا ٿي سگھون ۽ نوان پڙهندڙ پيدا ڪرڻ لاءِ ٻاراڻي ادب تي ڪم ٿيڻ گھرجي جيڪو نه ٿي رهيو آهي.موهن مدهوش وٽ الطاف ملڪاڻي به ويٺل هو جنهن 35 ڪتابن جا ترجما ڪيا آهن ۽ پنج ڪتابن جو مصنف آهي.ڪتابن جو وڪرو گھٽ ٿيڻ تي هن پنهنجي راءِ ڏيندي چيو ته اڳ ۾ سياسي سماجي تنظيمن جا اسٽڊي سرڪل هوندا هئا جتي ڪارڪنن کي ڪتاب پڙهايا ويندا هئا پر هاڻ نظرياتي سياست گھٽ ٿيڻ جي ڪري ڪتاب پڙهڻ جو رُجحان به گھٽجي ويو آهي.
اتان کان پوءِ آئون ڀٽائي بُڪ هائوس تي ويس جيڪو حيدر چوڪ جي اوڀر ڏانهن ويندڙ روڊ تي واقع آهي. هي هڪ وڏو ڪتاب گھر آهي ۽ ٻن دڪانن تي مشتمل آهي جنهن جو مالڪ اُردو ڳالهائيندڙ ذوالفقار علي آهي.هن وٽ سنڌي ۽ اردو ٻنهي ٻولين جا ڪتاب پيل آهن.هن ٻڌايو ته مجموعي طور وڪرو گھٽ ٿي ويو آهي پر منهنجو وڪرو سٺو ٿئي.هن چيو ته اسان وٽ روشني پبليڪيشن جا ڪتاب گھڻا وڪرو ٿين ٿا جنهن جا ست کان اٺ سئو ٽائيٽل آهن.جڏهن مون هن کان ٻاراڻي ادب جي صورتحال معلوم ڪئي ته هن ٻڌايو ته اردو ميگزين ان حوالي سان سٺو ڪم ڪن پيا جيڪي خاص طور ٻارن جا رسالا هلائين پيا جيئن نونهال ۽ نٽ گھٽ وغيره.هن چيو ته اسان وٽ ناول گھڻو وڪرو ٿئي ٿو.
ان کانپوءِ شاه لطيف ڪتاب گھر وڃڻ ٿيو جيڪو روشني ڪتاب گھر طور به سڃاتو وڃي ٿو.هي ڪتاب گھر حيدرچوڪ جي اتر طرف گلي ۾ واپڊا يونين هال وٽ آهي. هي به هڪ وڏو ڪتاب گھر آهي جيڪو ٻين ڪتاب گھرن کي هو سيل تي به ڪتاب ڏين ٿا.هتي ويٺل علي اظهار جو چوڻ هو ته هاڻ نوجوان ناول جي جڳهه تي فلم کي ۽ ننڍا ٻار آکاڻين جي جڳهه تي ڪارٽون ڏسڻ کي ترجيح ڏين ٿا.شاه لطيف ڪتاب گھر جي سامهون ئي پهرين فلور تي سنڌيڪا وارن جي فرينچائز آهي جنهن کي غلام عباس ابڙو هلائي ٿو.سنڌيڪا سنڌ جي وڏين پبليڪيشنز مان هڪ آهي جنهن جو مالڪ نور احمد ميمڻ آهي.ٻين ڪتاب گھرن جي ابتڙ هتي فقط سنڌيڪا جا ڇپيل ڪتاب ملن ٿا.سنڌيڪا جا 400 کان مٿي ڪتاب ڇپيا ويا آهن.هن ٻڌايو ته اسان جا اسلامي،سيلف ڊولپمينٽ ۽ تاريخي موضوع تي ڪتاب گھڻا وڪامجن ٿا.
حيدر چوڪ تي ئي واپڊا يونيين هال جي ويجهو سِنڌيا پبليڪشين جو ادارو آهي جنهن کي شروع ٿيندي صرف ڏيڊ سال ٿيو آهي ۽ ان جا هن وقت تائين 27 ڪتاب ڇپجي چڪا آهن.سِنڌيا پبليڪيشن جي ڪتاب گھر تي ويٺل رشيد احمد هاليپوٽو،جيڪو اتي اڪائونٽنگ مينيجر آهي،ٻڌايو ته اسان جي اداري ۾ سفارشي ڪلچر نه آهي.اسان وٽ مواد ڪنهن جو به شايع ٿي سگھي ٿو بشرطيڪه اسان جو سليڪشن بورڊ ان کي منظور ڪري ۽ اسان ليکڪ کي وس آهر رائلٽي به ڏيندا آهيون.هن ٻڌايو ته اسان پنهنجا ڪتاب 50 سيڪڙو رعايت سان ڏيندا آهيون.هي ادارو سِنڌيا پبليڪيشن جي نالي سان هڪ ماهوار رسالو به هلائي ٿو.
ان  کانپوءِ ڪتاب گھرن جي پُڇاءَ ڪندي آئون حيدر چوڪ وٽ رابِعه اسڪوائر پهتس جتي اندر مارڪيٽ ۾ ٻه ڪتاب گھر آهن،هڪ سنڌي ساهت گھر ۽ ٻيو فڪشن هائوس.سنڌي ساهت گهر، جيڪا 1973 کان ڪم ڪري پئي جو مالڪ ناز سنائي آهي جيڪو هڪ ليکڪ آهي ۽ کيس جي.ايم سيد پٽ وانگر سانڍيو.ناز سنائي جو چوڻ هو ته اڳ ۾ سنڌي ميڊيم اسڪول به هوندا هئا ته ڪتاب پڙهندڙ به هوندا هئا ۽ ڪتاب ڇپبا گھٽ هئا پڙهندڙ وڌيڪ هئا پر هاڻ ڇپجن گھڻا ٿا پڙهجن گھٽ ٿا،لکڻ جو معيار نه رهيو آهي.سنڌي ادب ۾ ٻاراڻو ادب نه آهي ۽ ڪيترائي ماڻهو چاهين ٿا ته انهن جا ٻار سنڌي ڪتاب پڙهڻ لاءِ تياري ڪن پر گھڻي ڳولها باوجود انهن کي سنڌي ادب جو ٻاراڻو ڪتاب  نٿو ملي.جڏهن اسان جي ٻولي جو نئون پڙهندڙ ئي پيدا نه ٿيندو ته اڳتي هلي اسان جي ٻولي سان جيڪو حشر ٿيندو ان جو اندازو ڪري سگھجي ٿو.سنڌي ساهت گھر جي پاسي ۾ ئي فڪشن هائوس لاهور جو پبليڪيشن ادارو آهي جيڪو 1991ع کان ڪم ڪري پيو، هن جو مالڪ ظهور احمد خان آهي. هن اداري روسي،فرانسيسي،جرمن ٻولين سميت دنيا جو مشهور ادب اردو ۾ ترجمو ڪيو آهي.هن اداري 700 کان وڌيڪ ڪتاب ڇپيا آهن جنهن ۾ نه رڳو اردو ۽ انگريزي پر سنڌي ڪتاب به شامل آهن.هن اداري پاڪستان جي مشهور تاريخدان مبارڪ سان گڏ ڪم ڪندي مخلتف موضوعن تي سندس 20 ڪتاب ڇاپيا آهن. هن جي هڪ سب آفيس ڪراچي ۽ ٻي حيدرآباد ۾ حيدر چوڪ ويجهو
رابِعه اسڪوائر ۾ آهي جتي پڙهندڙن کي تقريبن هر موضوع تي ڪتاب ملي وڃن ٿا.

سڀ کان آخر ۾ سنڌي ادبي بورڊ جي ڪتاب گھر تي ويس جيڪو تلڪ چاڙهي تي موجود آهي.هي هڪ سرڪاري ادارو آهي،هتي ڪتابن کي مخلتف موضوعن جي حوالي سان الڳ ڪري رکيو ويو هو جنهن ڪري ڪتابن جي چونڊ آساني سان ڪري سگھجي ٿي.اداري جي سيل اسسٽنٽ بشير احمد عمراڻي ٻڌايو ته سنڌي ادبي بورڊ ٻاراڻي ادب لاءِ تقريبن گذريل 50 سالن کان ماهوار گُل ڦُل رسالو هلائي پيو ان کان علاوه عورتن لاءِ 1990ع کان وٺي ماهوار سرتيون رسالو هلايو وڃي پيو.

گل محمد بُخاري جو پروفائيل :صدام لاشاري

ur intro is same as Abdul ghaffar's profile. he sent his profile first so u must have to change  ur intro.
 Sadam Lashari   پروفائيل
           ڀلوڙ ليکڪ گل محمد بُخاري
تحرير:صدام لاشاري
ايم اي پريويس
رول نمبر 52     
چيو ويندو آهي تـ غريب انسانن جي مدد ۽ حوصلا افزائي اهو ڪندو آهي جنهن جي دل ۾ انسانيت ديرو ڄمائي ويٺي هوندي آهي. يا تـ اهو انسان خُد انهن مشڪلاتن جو سير ڪندي وڏي منزل تي پهچندو آهي سندن کي پوءِ ئي غريبي جي چڱي طرح سُڌ پوندي آهي، ڇوتـ انهن جو تعلق پهريان ڏينهن ۽ رات ان بي پرده غريبي سان هيو جنهن کي ڪنهن بـ امير جي مينهن لتاڙي پئي سگهي. باقي تـ غريبن جو قدر اميرن کان وڌيڪ ڪير ڄاڻيندو هوندو جو امير پنهنجي انا ۽ وڏائي جي ڇانوءَ جي ڇاپري ۾ غريبن سان هٿ ملائڻ بـ پنهنجي توهين سمجهندا آهن. شايد انهن کي ڪنهن تعليمي اداري ۾ اهو درس ناهي ڏنو ويو تـ جيڪو اميري جي چادر اوڍي هلي سگهي ٿو تـ ان کي غريبي جو لباس پائڻ ۾ وقت ئي نـ لڳندو شايد اها ئي وجهه آهي جو امير غريب سان ائين نفرت ڪري ٿو جيئن رُٺل محبوب پنهنجي عاشق سان.
انهن غريبن مان گل محمد بخاري بـ هڪ آهي جنهن 9 مارچ 1960ع ۾سنڌ جي ننڍڙي شهر شهدادڪوٽ ۾جنم ورتو.غريبي واري اُڪسائيندڙ ماحول گل مُحمد بُخاري کي ليکڪ ٿيڻ تي مجبور ڪري ڇڏيو.گل محمد بخاري پنهنجي تعليم ڪنهن اعليٰ اسڪول يا ڪنهن نجي ادارن ما نـ پرائي غريبي جي خيال ويتر دماغ کي تيز بڻائي ڇڏيو،ڪيترن ئي سندس غريبي جي آڙ ۾ تعليم حاصل نـ ڪرڻ  جي صلاح مصلحت ڏيندا رهيا، شايد انهن کي خبر ڪا نـ هئي تـ گل محمد بخاري جا حوصلا پهاڙن کان بـ اوچا آهن. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري پنهنجي تعليم پرائڻ کي اول ترجيح ڏني.
تعليم:
پرائمري تعليم گورنمينٽ مين اسڪول شهدادڪوٽ مان حاصل ڪيائين. سيڪنڊري تعليم گورنمينٽ هاءِ اسڪول مان حاصل ڪيائين.هائير سيڪنڊري تعليم گورنمينٽ بوائز ڊگري ڪاليج شهدادڪوٽ مان حاصل ڪيائين.ماسٽر ڪيترن ئي سبجيڪٽس ۾ ڪيائين جهڙوڪ،ايم اي اسلامڪ ڪلچر، ايم اي مسلم هسٽري،ايم اي پوليٽيڪل سائنس ۽ ايم اي سنڌي شاه عبدالطيف يونيورسٽي مان ڪيائين
هو هڪ ليکڪ،هڪ اعليٰ ۽ هڪ معتبر انسان بڻجي زماني کي حقيقتون سمجهائڻ ۾ رڌل رهيو.سندس جي هڪ تمام وڏي ڪوشش اها بـ هئي تـ هو  غريب ۽ امير ۾ پيل صدين کان اميري ۽ غريبي جي ديوار کي هميشه لاءِ ختم ڪري انهن کي هڪ ئي راه تي گامزن ڪري. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري شهدادڪوٽ جي ڊگري ڪاليج ۾ (هن ديس جا وارث غريب) هڪ پروگرام ڪوٺرايو جنهن جي صدارت نالي وارن ليکڪن ۽ اديبن ڪئي.ان پروگرام جو اثر غريبن تمام سٺي نموني سان اپنايو.گل محمد بخاري پهريون ڪتاب اوڻويهن سالن جي ڄمار ۾ لکيو.سندس مقصد اهو هو تـ قلم جي ذريعي ماڻهن ۾ اُتساهه پيدا ڪجي.گل محمد بخاري کي ڪتاب لکڻ تي تمام سٺي موٽ ملي ۽ سندس جا حوصلا پهاڙ جيئان بلند ٿي ويا. اها ئي وجهه هئي جو گل محمد بخاري تيزي سان ڪيترائي ڪتاب لکيا جيڪي ماڻهون پڙهي لُطف اندوز ٿين ٿا.
ليکڪ گل محمد بخاري جا ڪيترائي ڪتاب مارڪيٽ جي رونق بڻيل آهن ننڍو توڙي وڏو معنيٰ تـ هر ماڻهون جنهن کي ڪتابن سان چاهه آهي اهو گل محمد بخاري جا ڪتاب پڙهي پنهنجي روح کي راحت بخشي ٿو. سندس جا ڪجهه لکيل ڪتاب هي آهن.
لکيل ڪتاب
ذڪرِ حبيب، عزيز نامو، پيار ڀريو پورهيو، رهبرِ ڪامل، طبِ نبوي، آبِ ڪوثر، سيدالمرسلين، بُرهان شريف، انسان نامو، شهدادڪوٽ ضلعو ڇو؟، شهدادڪوٽ جا قلمڪار ۽ شاعر، سبحان جي ساراهه، عرفان شريف، ديوانِ گل بخاري، فڪرِ حبيب، رهبرِ اعظم، تحريڪي ڪارڪنن جا پاڻ ۾ تعلقات، تاريخ جا ٻـ ورَق.
ليکڪ گل محمد بخاري جي هنن تحريرن ماڻهن جي دلن ۾ گهر ڪري ڇڏيو،ليکڪ گل محمد بخاري جي هر ننڍو توڙي وڏو دل جي گهرائي سان عزت ڪندي نظر ايندو آهي. سندس جي محنت رنڱ لاتو غريبي جي پاجامي ۾ رهي ڪري دلي طور تي اميري جهڙا ڪم ڪرڻ لڳو.گل محمد بخاري ڪڏهن بـ هڪ پل جي لاءِ بـ ڪنهن غريب کي غريبي جو احساس ناهي ڏياريو ويتر هو پاڻ کي غريبن جو يار سڏرائڻ  ۾ فخر محسوس ڪندو آهي.حڪومتِ پاڪستان جي طرفان گل محمد بخاري کي ايوارڊ پڻ ڏنو ويو آهي.
سندِ امتياز ايوارڊ:
ڪيترن ئي ڪتابن جي تحريرن کان بعد ۾ ليکڪ گل محمد بخاري جي طرفان لکيل بهترين ڪتاب بُهران شريف جي مارڪيٽ ۾ اچڻ کان بعد ۾ حڪومتِ پاڪستان جي طرفان گل محمد بخاري کي 5 فيبروري 2012ع ۾ سندِ امتياز ايوارڊ سان نوازيو ويو.

ليکڪ گل محمد بخاري اڄ بـ پنهنجي علم ۽ ادب سان ماڻهن جي ضميرن کي جاڳائڻ جي ڀرپور ڪوشش ۾ رڌل آهي. ان سان گڏوگڏ ڪيترن ئي غريب شاگردن کي پنهنجي علم جي روشني سان علم نوازي رهيو آهي. سندس جي ڪوشش اها آهي تـ هِن وانگر هِن جا شاگرد بـ علم ۽ ادب جي سُر کي سڃاڻي جهالت واري نظام خلاف بغاوت  ڪري سنڌ سميت پنهنجي هر ننڍي توڙي وڏي شهر ۾ تعليم جي معيار کي بهتر بڻائن.

محمد ايوب گاد جو پروفائي طارق علي چانڊيو

This is not profile, its CV
 محمد ايوب گاد ھدايتڪار ۽ شاعر مصور (پروفائيل(

ليکڪ طارق علي چانڊيو
ايم اي  پريويس
رول نمبر ؛ M.M.C/63

نالو؛ محمد ايوب گاد
 والد؛ گلام حيدر خان  گاد
ڄمڻ جي تاريخ   2/6/1960
ڄمڻ جو ھند لاڙڪاڻو شھر
تعليم؛   بي اي ( سائيڪالوجي)
          ايم. اي (سنڌي ادب)

ايوب گاد بنيادي طور تي فنون لطيف جو اهو سگهارو ۽ مانوارو نالو آهي جيڪو هڪ ئي وقت سٺو شاعر ، سادڙن رنگن مان زندگيءَ جي حقيقت کي پيش ڪندڙ مصور ، ڪميٽيڊ ۽ سڄاڻ ڊراما نگار ،اسٽيج ۽ ٽيليويزن ناٽڪن جو گهري نگاھ رکندڙ زھين ھدايتڪار آھي.
اسان جي هن ٽهي ءَ ۾ پاڪستان ٽيليويزن کان ٻاهر ايوب گاد اهو پهريون هدايتڪار آهي جيڪو اسڪرپٽنگ کان وٺي فاعينل ايڊيٽنگ تاعين جي سمورن مرحلن کان بخوبي واقف آهي ۽ اهو ئي سبب آهي جو سندس ڪم صاف سٿرو هوندو آھي.

ڇپيل ڪتاب
§        پيار جي ڇانوَ ۾ (شاعري) 1993/2000.
§        راحت العاشقين (نثر) 1998ع.
§        جنهن سان پسجي پرينءَ کي (نثر) 1998ع.
§        اک الٽي ڌار (ڀٽائي سائينءَ جي ڪجهه بيتن جي تشريح)
§        اسڪول ميگ (بطور ايڊيٽر)


ڪالم
§        جاڳو (ڪراچي)                   1998ع.
§        خادم وطن (حيدرآباد)    1998ع.
§        ڪوشش         (حيدرآباد)                 1999ع.
§        شام (حيدرآباد)            1999ع.
§        ماهوار مومل (ڪراچي)         1999ع.

مقالا ۽ مضمون
§        ماهورا نئين زندگي (حيدرآباد)  1996ع.
§        پندرهن روزه عبرت ميگزين (حيدرآباد)          1991ع.
§        ماهوار ڪونج (لاڙڪاڻو)                 1994ع.
§        سنڌو (حيدرآباد)                   1992ع.

ڇپيل ڪهاڻيون
§        نئين زندگي، رابيل ڊائجسٽ، هزار داستان، سنڌ، چانڊڪا، بختاور، عبرت مئگزين، پرهه، پارس، مومل، آجپو.

ڇپيل انٽريو
§        جنگ مئگزين (اردو)، انڊس مئگزين (انگلش)، عبرت مئگزين، ماهوار ناٽڪ ( ڪراچي)، اخبار فن ( اردو)، سنڌو، ڪونج، ساڻيهه مئگزين.

ڇپيل شاعري (گيت، غزل ۽ وايون ٽوٽل تعداد 99)
§        سهڻي، لطيف ڊائجسٽ، ن.ين زندگي، مهراڻ، سنڌ، سگهڙين سٿ، بختاور مئگزين، پارس، مومل، پروڙ، چانڊڪا، نئين سوچ، سنڌو ۽ ٻيا رسالا.

اسڪيچ
§        موهن جو دڙو مئگزين
§        چانڊڪا ميڊيڪل ڪاليج ڏياري مئگزين
§        رابيل ڊائجيسٽ
§        روزانه آفتاب اخبار

ڪتاب، رسالا ۽ ڊائجسٽن جا ٽائيٽل
§        پيار جي چانوَ ۾
§        پير ۾ پينگهه
§        گجر پائي گج
§        ڪنڌيءَ نسريا ڪانهن
§        بندر ديسان ديس ( سفرنامو)
§        نيڻ ڳالهائين ٿا
§        رابيل ڊائجسٽ
§        زندگي ۽ ڪئڪٽس (ڪهاڻيون)
§        ديش دروهي ( ڪهاڻي)
§        اُڀر چنڊ پس پرين ( ڪهاڻيون)
§        سائنس مئگزين
§        اسڪول مئگ
§        ماهوار سارس ڪراچي

تصويرن جي نمائش
§        پرس ڪلب لاڙڪاڻو، 1980ع
§        چانڊڪا ميڊيڪل ڪاليج لاڙڪاڻو، 1981ع
§        سنڌ آرٽسٽ گلڊ حيدرآباد، 1981ع
§        المنظر سئنيما، رائل سئنيما، ايمپائر سئنيما، قلو پطره سئنيما تي (1976 کان 1996 تائين) سوين بينر (فلمي اداڪارن جون تصويرون) ٺاهيل.

ڪنول پروڊيڪشن جي بنياد وجهي آڊيو جي رليز ڪيل البم (جنهن ۾ ڪا به ڪاپي ڌن نه هئي.)
1.     سوره النساءِ سنڌي ترجمي سان.
2.     ماءِ سانگس (شاعري) ايوب گاد، واليم _1 ۽ 2.
3.     استاد بخاري نمبر (شاعري) استاد بخاري.
4.     منهنجا گيت(شاعري) عبدالغفار تبسم.
5.     دوستيءَ جو سج ( شاعري) سميع بلوچ.
6.     اسين مسافر پيار جا ( شاعري) ادل سومرو.
7.     خواب رستا ( شاعري) اياز گل واليم _1 ۽ 2.
8.     آ لفاريو (شاعري) جواد جعفري.
9.     بيدل مسرور، صادق فقير، سرمد سنڌي، عاشق نظاماڻي، ايم گروپ، نظير سمون، رابعه غزل، نوحه.
ڊرامه
§        اسٽج (ون ايڪٽ مزاحيه 1988ع کان)
§        ڀلا ڙي ڀاڳ
§        هل پنهل
§        شادي بابي جي
§        ڪنوار قسطن جي
§        آزاد اميدوار
§        پهاج
§        نو پرابلم
§        نه بنگلو گهري ٿي نه ڪار گهري ٿي
§        هڻ لڻ هاسپيٽل
§        وائڙي ليلا واندو مجنون
§        خوابن جي ليليٰ.

ريڊيو پاڪستان لاءِ لکيل ڊرامه
§        ٻيڙائي پار _ پروڊيوسر علي مراد ٽانوري.

ويڊيو فلمون (ٽيلي فلم)
1.     بيوس؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (تجرباتي فلم) 1983ع.
2.     مهربان؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (پاڪستان جي پهرين ٽيلي فلم جيڪا رليز ڪئي وئي) 1985ع، رليز شاليمار رڪارڊنگ ڪمپني (SRC 451) اسلام آباد.
3.     مس 88؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد (رليز نه ڪيل) 1988ع.
4.     ناسور؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، رليز ڪنگز وڊيو سکر، 1992ع.
5.     مقدر جي ميندي؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، رليز ڪنگز وڊيو سکر، 2004ع.

پاڪستان ٽيلي ويزن (PTV) لاءِ ليل ڊراما
     ڊرامي جو نالو                تحرير            هدايتون          سال
1. پرچاءُ                           ايوب گاد                  سميع بلوچ      1996
2. تنهنجي خوشيءَ خاطر        ايوب گاد                  بيدل مسرور    2000
3. مون ۾ تون موجود   ايوب گاد                  سميع بلوچ      2002
(13 قسطون سيريل)

پاڪستان ٽيليويزن تان هليل گانا
§        ڳائڻا؛ تعمير حسين، عاشق نظاماڻي، انيتا رياض، حميد راڄپر، سيما ناز ۽ ٻيا.
 STN  لاءِ لکيل  ڊراما
§        عيوضو؛ تحرير ۽ هدايات ايوب گاد، 2003ع.
پرائيويٽ ڪمپنين طرفان نڪتل آڊيو ڪيسيِن ۾ گانا


§        گائڻا؛ عاشق نظاماڻي، سما ناز، انيتا رياض، منظور سخيراڻي، سرمد سنڌي، غلام شبير سمون، عاشق نظاماڻي، رياض سومرو، شفيق منگي، اسلم تنيو، آڪاش سنڌي، ّالد پيرزادو، سڪندر، ايم گروپ ۽ ٻيا.